تعصب کو سمجھنا

بدنامی یا تعصب ایک ایسا شرمناک دھبا ہے جو ذہنی بیماری کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ ذہنی بیماری کے بارے میں غلط تصورات ہیں۔ ہماری ثقافت میں ذہنی مسائل کے بارے میں عام روئیے یہ ہیں کہ ذہنی بیماریاں ذاتی کمزوری، کردار کی خامیوں ، کالے جادویا مافوق الفطرت اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔اکثر یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ ذہنی بیماری کا شکار افرادتشدد کی جانب راغب ہوتے ہیں اور برائیوں میں ڈوبے ہوئے ( خاص طور پر جو نشے کاعادی ہونے سے متعلق ہوتی ہیں)۔ یہ غلط تصورات بیماروں کے خلاف بڑے تعصبات کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔ ان میں سے کئی مساوی مواقع پانے سے محروم رہتے ہیں( جیسے گھر یا ملازمت)کیونکہ کوئی بھی ان سے تعلق رکھنا پسند نہیں کرتا۔

در حقیقت پاکستانی معاشرے میں یہ تعصب اتنا زیادہ ہے کہ ’’ نفسیاتی‘‘ کو عام طورپر توہین کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اگرایک خاندان کے کسی فرد پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہونے کا شبہ ہوجائے ، تو سارے خاندان کا حقہ پانی بند ہوجاتا ہے خاص طور پررشتوں کے سلسلے میں۔اس لئے لوگ خاندان میں ذہنی صحت کے مسائل کو سختی سے چھپاتے ہیں۔ کچھ کیسوں میں بغیر بتائے بیمار کی شادی کردی جاتی ہے اس غلط امید میں کہ شادی سے وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔

نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بدنامی یا تعصب کے خوف سے وہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ انہیں یہ بیماری ہے، ضروری مدد نہیں لے پاتے۔یہ تعصب ن صرف عام لوگوں میں ہی عام نہیں بلکہ ان طبی ماہرین میں بھی ہے جنہوں نے اس زمانے میں تربیت حاصل کی جب نفسیاتی تجزئیے پر بہت کم یا بالکل ہی توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ دراصل یہ عام دیکھا گیاہے کہ پاکستان میں کچھ طبی ماہرین جو نفسیاتی تجزیئے کو جعلی سائنس اور غیر موثر سمجھتے ہیں، ذہنی صحت کی خدمات لینے پر مریضوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔یہ خصوصی طور پر قابل توجہ امر ہے کیونکہ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بیمار افرادکی اکثریت پہلے خود کو عام ڈاکٹر یا اپنے خاندانی ڈاکٹر کو دکھاتے ہیں۔
تعصب یابدنامی کے رحجان کو دو اقسام میں بانٹا جاسکتا ہے: سماجی تعصب اور ذاتی تعصب۔

سماجی بدنامی یاتعصب

سماجی تعصب اس امتیازی سلوک سے عبارت ہے جو ذہنی بیمار وں کے معاملے میں سماجی رویوں میں پایا جاتا ہے۔معاشرے میں ذہنی بیماری کا عام تصور یہ ہے کہ بیمار ڈپریشن اور اضطرابی مسائل کی وجہ سے قابو سے مکمل باہر( سائیکوٹک) ہوگا۔ تاہم ، زیادہ تر اسے ذہنی صحت کا مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔پیشہ ورانہ ذہنی صحت کی خدمات کوپیشانی پر شکنیں ڈال کے دیکھا جاتا ہے اور خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار افرادصحت یاب نہیں ہو سکتے۔یہ سماجی روئیے بیمار کے لئے اپنی کیفیت دیانتداری سے بتانے اورصحت یابی کے سفر پرقدم رکھنے سے روکتے ہیں۔

:سماجی تعصب یا بدنامی پر اس طرح قابو پایا جاسکتا ہے

  1. ذہنی بیماری کی حقیقی صورت کے بارے میں منظم اور مسلسل عوامی ذہنی صحت آگہی مہمات کے ذریعے عوام کو بتانا ۔اس سے معاشرہ ذہنی بیماری کو اور لوگوں کو صحت یابی کی کوشش میں مدد دینے کے بارے میں سمجھ سکے گا۔
  2. متاثرہ لوگوں کا اپنی ذہنی صحت کے مسائل کی تاریخ کے بارے میں عوام کے سامنے آکر بتانا، یہ دکھانا کہ صحت یابی ممکن ہے اور یہ کہ ذہنی بیماری کا شکار افراد فعال اور معاشرے کے لئے مفید ہوسکتے ہیں۔
  3. صحتمند اور دیکھ بھال کرنے والے افراد کا ایک موقف اپنانااوربیماروں کے بارے میں درست رائے اور مثبت تصویر کو مسلسل سامنے لانا۔

ذاتی بدنامی یا تعصب

اس کو اور بھی کم سمجھا گیا ہے اور اکثر یہ سماجی تعصب یا بدنامی سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔اس میں بیمار شخص ذہنی بیماریوں کے بارے میں سماجی غلط تصورات اور تعصبات کو اپنے اندر سمولیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیمار کو اپنے بارے میں شک ہونے لگتا ہے اور وہ احساس کمتری ، احساس جرم حتی کہ شرمندگی میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔اسکی وجہ سے ان کے اندر علاج کروانے کی تحریک کم ہوجاتی ہے اور صحت یابی میں رکاوٹ پڑتی ہے۔

ذاتی بدنامی یاتعصب پر قابو پانا ، اپنی ذہنی بیماری کو قبول کرنے کا ایک اہم حصہ ہے، جو صحت یابی کے سفر کی ابتدا کے لئے لازمی ہے۔ ذاتی تعصب پر اس طرح قابو پایا جاسکتا ہے:

  1. بیمارشخص کا ذہنی صحت اور ذہنی بیماری کے بارے میں کسی بھی دوسرے مرض کی طرح، جس میں علاج کی ضرورت ہوتی ہے، مزید جاننا، اس سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ان کی تکلیف ان کی ذاتی کمزوری یا کردار کی خامی کی وجہ سے نہیں ہے۔
  2. خود سے ہمدردی اور کسی بھی ایسی غلطی پر خود کو معاف کرنے کی مشق کرنا جو اس وقت سرزد ہوئی ہوں جب انہیں اپنے افعال پر قابو نہ ہو
  3. ان ساتھی رہنماؤں سے ملنا اور تحریک پانا جو صحت یاب ہوچکے ہیں اور اپنی روداد بتانے کے لئے تیار ہوں( ہمارا ساتھی تعاون سیکشن دیکھئے
  4. اپنے بااعتماد لوگوں سے بات کرنا جس سے شرم اور احساس جرم میں کمی پیدا ہونے میں مدد ملتی ہے۔