جذباتی صحت

جذبات کیا ہوتے ہیں

جذبات وہ سنسنی ہے جو زندگی کے کسی خصوصی تجربے کے ردعمل میں ہمیں محسوس ہوتی ہے۔ کچھ جذبات کا تجربہ خوشگوار ہوتا ہے (خوشی، احسانمندی،  اعتماد،  اطمینان یا قناعت،  جوش و خروش، تجسس)،  جبکہ دوسرے ناخوشگوار ہوتے ہیں (غصہ،  اداسی،  مایوسی،  حسد، خوف،  احساس جرم،  شرمندگی)۔جو جذبات ہم محسوس کرتے ہیں وہ عام طور پر بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ کسی ایک خاص واقعے کے باب میں کئی قسم کے جذبات نمودار ہوں۔

i1

قطع نظر اس کے کہ کوئی جذبہ خوشگوار ہے یا ناخوشگوار، یہ معمول کی بات ہے اور اہم بھی کہ کسی بھی صورتحال میں تمام ممکنہ جذبات طاری ہوجائیں۔مشکل جذبات کا محسوس ہونا بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ان سے نمٹنے کی بجائے،  ان سے گریز اور پھر بعد میں ان کو بھگتنے سے جب کہ ان کا آخر کارسامنا ہی کرنا پڑجائے،   بہتر ہے کہ ضروری معلومات اور تدابیر کی مدد سے ان کا سامنا مثبت انداز میں کر لیا جائے۔اگر ہم اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام رہیں،  توہمارے سوچنے کا عمل بھی متاثر ہوجائے گا۔اور پھر اس کے نتیجے میں ایسے روئیے جنم لیں گے جو ہمارے لئے اور ہمارے ارد گرد کے لوگوں کے لئے نقصان دہ ہونگے۔

جذباتی صحت

جذباتی صحت ہماری اندرونی دنیا کی کیفیت  سے مراد ہے: جذبات کا دائرہ۔ ہماری جذباتی صحت یہ تعین کرتی ہے کہ ہم کسی خاص واقعے کے ردعمل میں کیا محسوس کرتے ہیں، ہمارے خیالات  اور ہمارے روئیے پر آخر کارکیا اثر پڑتا ہے۔ اسی لئے اگر ہم ایک خوشگوار اور صحتمندانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو جذباتی صحت کا اچھا ہونا ضروری ہے۔

 

اچھی جذباتی صحت کی چند کلیدی خصوصیات یہ ہیں:

  1. مناسب جذباتی ردعمل جو ہماری اقدار اوردینی شعائرکے مطابق ہوں
  2. اپنے روئیے پر قابو
  3. مشکل صورتحال سے موثر طور پر باہرآجانا۔

ناخوشگوارجذبات سے دوچار ہونا بھی صحتمندانہ  ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ جذبات موزوں اور ایک خاص صورتحال کے تناسب سے ہوں۔  اچھی جذباتی صحت کے آئینہ دارمناسب جذباتی ردعمل کی چند مثالیں یہ ہیں:

  1. رافع کو امتحان میں ناکامی پر مایوسی ہورہی ہے لیکن وہ اس پر قابو پاکے اگلے امتحان کے لئے سخت محنت کرسکتا ہے۔
  2. عالیہ اپنی ضعیف ماں کے انتقال پر بیحد غمزدہ ہے۔وہ اگرچہ کافی عرصے تک سوگ میں رہی ہے لیکن ایک ہفتے بعد وہ کام پر واپس ٓگئی اور اپنا روزمرہ کا معمول بھی شروع کردیا۔
  3. منصور اپنے پہلے بچے کی پیدائش پر خوشی سے نہال ہے اور رشتے داروں میں مٹھائیاں تقسیم کررہا ہے۔
  4. رحمہ اپنی دوست کی کسی حرکت پر ناراض ہے اور اس نے دوست سے آمنا سامنا کرکے اس مسئلے پر مستحکم انداز میں بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خراب جذباتی صحت اس کے بر عکس،  اداسی،  طویل عرصے تک تناؤ  میں یاپریشان رہنے اور اس سے درست طور پر نہ نمٹنے کا نتیجہ ہوسکتی ہے اس میں یہ شامل ہے:

  1. کسی صورتحال میں غیر مناسب یا بہت زیادہ جذباتی ردعمل کا اظہار۔
  2. غیرمناسب رویہ اپنانا۔
  3. ناکامیوں کا سامنا ہونے پر ان سے نمٹنے میں مشکل۔

غیر مناسب جذباتی ردعمل کی چند مثالیں جو خراب جذباتی صحت کو ظاہرکرتی ہیں:

  1. رافع پر ایک امتحان میں ناکامی پر مایوسی کا اتنا غلبہ ہے کہ وہ اگلے امتحانات پر توجہ نہیں دے سکتا۔
  2. عالیہ اپنی ماں کے انتقال پر اتنی تباہ حال ہوگئی ہے کہ دوماہ سے مسلسل گھر پرسوگ میں ہے اور کام پر جانے کے قابل نہیں ہے
  3. منصوراپنے پہلے بچے کی پیدائش پر خوشی سے اتنا پاگل ہوگیا ہے کہ اس نے تقریبات پر بہت پیسا خرچ کرڈالا اور نتیجے میں اس کے گھر والوں کو مالی مشکل آپڑی ہے۔
  4. رحمہ اپنی دوست کے روئیے سے غصے میں ہے اور اس نے دوست کی نوٹ بک چوری کرکے جلادینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 شعوری کیفیت یا آگہی

ہماری جذباتی صحت کو متاثر کرنے والی وجوہ کو سمجھنے کے لئے شعوری کیفیت کو سمجھنا بڑا اہم ہے۔شعوری کیفیت کی وضاحت کرنا ایک چیلنج ہے کیونکہ مختلف فلسفیوں اورسائنسدانوں نے اس کی تشریح مختلف انداز سے کی ہے۔ہم شعوری کیفیت کو ایک ایسی حالت سمجھتے ہیں جس میں ہم اپنے اردگرد اور دنیا کے بارے میں اپنے تصور سے باخبر ہوں۔یہ تعین کرتی ہے کہ ہم اپنے چاروں طرف کی دنیا کو کس طرح سمجھیں اور اس سے کیسے پیش آئیں۔ہمارا شعور ہمارے زندگی کے اپنے تجربات،  خاص طور پر بچپن کے تجربات سے تشکیل پاتا ہے اور اسی لئے ہر ایک کی  شعور ی کیفیت منفرد ہوتی ہے۔یہ ہماری ذات کا احساس ہے اور اس میں وہ تمام خیالات، احساسات اور یادیں شامل ہیں جو زندگی بھر میں اکھٹا ہوئی ہیں۔

ہماری شعوری کیفیت دو حصوں سے مل کر بنی ہے:  شعور اور تحت الشعور۔ اگرآپ فرض کریں کہ شعوری کیفیت ایک گھر ہے تو شعور نچلی منزل ہوگی اور تحت الشعور تہہ خانہ۔

i2

ہم ہمیشہ گھر کی نچلی منزل پر ہوتے ہیں،  لہذا تمام خیالات، احساسات اور یادیں جو ہمیں بخوبی یاد ہیں وہ ہمارے شعور کا حصہ ہیں۔مثال کے طور پر جب آپ بیٹھے ہوں اور یہ مضمون پڑھ رہے ہوں تو آپ کے ذہن میں جو بھی چل رہا ہے جو آپ کا جانا پہچانا ہے وہ شعور کا حصہ ہے اور نچلی منزل پر موجود ہے۔

تحت  ا لشعور (تہہ خانہ) خیالات،  احساسات اور یادوں کا اسٹور ہے جس کی موجودگی کا ہمیں احساس نہیں رہتا یا اسے ہم دبا دیتے ہیں۔ کیونکہ اس سے کچھ تلخ یادیں وابستہ ہوسکتی ہیں۔دراصل جب بھی ہمیں کوئی صدمہ پہنچتا ہے ہم لاشعوری طور پر اسے تہہ خانے میں چھپا دیتے یا وہاں دھکیل دیتے ہیں۔تحت الشعور ایک محدود جگہ ہے اور اگرچہ کہ ایسا لگے کہ ہم ناخوشگوار واقعہ بھول چکے ہیں اور ہم نے اس پر قابو پالیا ہے،  وہ واقعہ تحت الشعور میں موجود رہتا ہے اور ہماری شعوری زندگی کے کچھ پہلوؤں پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر،  اگر کسی شخص کو بچپن میں زیادتی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہو،  تو یہ ممکن ہے کہ وہ اصل واقعات بھول چکا ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص اس تکلیف سے سمجھوتہ کر چکا ہے جو اس زیادتی کے نتیجے میں اسے ہوئی تھی۔ کسی بھی وقت ان واقعات کی یادیں جنہیں ہم تحت الشعور میں دھکیل چکے ہیں حال میں منفی جذبات کو متحرک کر سکتے ہیں۔

جذباتی صدمے

جیسے جسمانی صدمے وہ زخم ہیں جو ہمارے جسم کو متاثر کرتے ہیں،  جذباتی صدمے زندگی کے وہ منفی تجربات ہیں جو ہماری شعوری کیفیت کو زخمی کرسکتے ہیں۔ جذباتی صدموں کی جو ہمیں پیش آسکتے ہیں چند مثالیں یہ ہیں:

  1. شرمندگی کسی بھی غلطی کے سرزد ہوجانے یا کسی کو پریشان کردینے کے نتیجے میں ایک عام اور قطعی طور سے قابل توجیہ رد عمل ہے۔
  2. مسترد کیا جا نا یہ ایسا صدمہ ہے جس سے بے حد تکلیف پیدا ہوتی ہے اور اس میں کسی ملازمت یا تعلقات  وغیرہ میں مسترد کیا جانا شامل ہے۔
  3. شرمساری یہ احساس اکثرطاری ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی ہمارا مذاق اڑائے یا اگر ہم سے مجمع میں کوئی ایسی حرکت سرزد ہوجائے جو شرمناک ہو۔
  4. ناکامی یہ ایسا صدمہ ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو زندگی میں کبھی نہ کبھی پیش آتا ہے۔ یہ امتحان میں ناکامی،  یا اپنے کسی ہدف کو پانے میں ناکامی ہو سکتی ہے۔ اگر اس سے درست طریقے سے نمٹا نہ جائے توناکامی بہت تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
  5. احساس تنہائی کچھ لوگوں کے نزدیک ہمیں متاثر کرنے والے بڑے جذباتی صدموں میں سے ایک ہے۔ تنہائی کا احساس تنہا ہونے سے مختلف ہے۔ تنہا ہونے کامطلب ہے ہم اکیلے ہوں اور ہمارے پاس کوئی نہ ہو۔احساس تنہائی کا مطلب ہے کسی سے ناتا نہ جوڑسکنایا دوسرے آپ کو نہ سمجھ سکیں، اس لئے یہ ممکن ہے کہ آپ لوگوں میں گھرے ہوئے ہوں اور پھر بھی تنہا ہوں۔انسان جبلی طور سے سوشل واقع ہوا ہے اور اگرہم برادری سے کسی وجہ سے بھی کٹ جائیں تو وہ ہمارے لئے بے حد تباہ کن ہوسکتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تنہائی کا شکار لوگوں کوکئی قسم کے جسمانی اور ذہنی مسائل کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اوران کے جلد مرجانے کا امکان ہوتا ہے۔
  6. بے معنی پن کا مطلب ہے کہ زندگی بے مقصد ہے۔ یہ کافی پریشانی اور مایوسی کا باعث ہوسکتا ہے اور اپنے ساتھ زندگی میں کئی بحران لا سکتا ہے۔
  7. ماضی میں ڈوبے رہنا ماضی میں گزرے چند واقعات (عام طور پر پریشان کن)کے بارے میں باربار سوچنا، خواہ ہم اس کے بارے میں اب کچھ بھی نہ کرسکتے ہوں۔ یہ ایک عمل ہے جوصدمے کے ردعمل میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہم منفی خیالات کے ایسے بھنور میں پھنس جاتے ہیں کہ حال سے ہمارا رشتہ کٹ سا جاتا ہے۔
  8. جسمانی بیماری خاص طور پر دائمی امراض میں بہت پریشانی ہوتی ہے اور متاثرہ افراد اور ان کے ارد گرد کے لوگوں کوبڑا جذباتی صدمہ ہوسکتا ہے۔
  9. نقصان مادی (پیسہ، جائداد)یا ذاتی۔ ذاتی نقصان میں موت، طلاق یا علیحدگی کی وجہ سے کسی عزیز سے محرومی جو متاثرین کے لئے نہایت پریشان کن ثابت ہوسکتا ہے۔
  10. زیادتی تشدد کی کوئی بھی قسم جو متاثرہ شخص کو اذیت دے۔یہ گھریلو تشدد یا بچے سے زیادتی(جسمانی، زبانی،  جنسی) ہو سکتی ہے۔یہ ایک غلط خیال ہے کہ بچے بڑے ہوجانے پر بھول جاتے ہیں اس لئے ان سے نتائج کے خوف سے بے پرواہ ہوکے زیادتی کی جاسکتی ہے۔در حقیقت،  تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچپن میں زیادتی ایک بڑا جذباتی صدمہ ہوتا ہے اورشدید ذہنی بیمار افراد کے بچپن میں اس قسم کے واقعات نمایاں ہوتے ہیں۔ گھریلو تشددمیں خاندان کا کوئی فرد دوسرے کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف متاثرین کے لئے بلکہ دیکھنے والوں کے لئے بھی صدمے کا باعث ہوتا ہے۔
  11. غربت ایک اور جذباتی صدمہ ہے اور غربت کا شکار لوگوں کے لئے بہت پریشان کن ہوسکتا ہے۔اندازہ لگایا گیا ہے کہ غربت سے صحت کے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
  12. جنگ ایک بڑا جذباتی صدمہ ہے کیونکہ یہ زندگی، گھر بارکو تباہی اور بے گھری کی طرف لے جاتی ہے۔اس کے نتیجے میں کئی بھیانک جرائم(عصمت دری، قتل عام) جنم لیتے ہیں جو اس کے شکار افراد کے لئے بے حد پریشان کن ثابت ہوسکتے ہیں۔
  13. دہشت گردی وہ خطرہ ہے جو اس کے دائرے میں رہنے والے افراد کے لئے بہت اذیت ناک ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف دہشت گردی سے براہ راست متاثرہ افراد کے لئے بلکہ ان کے لئے بھی تکلیف دہ ہوتا ہے جو ہر وقت اس کے خطرے تلے زندگی گزار رہے ہوں۔
  14. قدرتی آفات جیسے زلزلے، سیلاب اور سونامی متاثرین کے لئے بہت اذیت ناک ہوتے ہیں اور بڑے صدمات سے دوچار کر سکتے ہیں۔

ان تجربات سے نمٹنا اور ان کے بارے میں بات کرنا مشکل ہوتا ہے کچھ اس لئے کہ یہ بہت تکلیف دہ اور چیلنج آمیز ہوتے ہیں اور کچھ اس لئے کہ ہمیں یہ پریشانی ہو سکتی ہے کہ دوسروں کا ہماری مشکلات کے بارے میں کیا ردعمل ہوگا۔معاشرہ ہمیں اپنے جذباتی مسائل کے بارے میں بات کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے کیونکہ جو افراد جذباتی ہوتے ہیں انہیں کمزور سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ خود مسائل پیدا کرسکتا ہے

کیونکہ جیسے زخم کا علاج نہ کیا جائے تو اس میں جراثیم پیدا ہوسکتے ہیں اسی طرح جذباتی صدموں کا علاج  ضروری ہے۔اگر وقت پر ان کا علاج نہ ہو تو وہ ہمارے شعور میں گہرے زخم ڈال سکتے ہیں۔

جذبات ظاہر نہ کئے جائیں تو وہ مرتے نہیں ۔ وہ زندہ دفن ہوجاتے ہیں اور بعد میں بدنما بن کر ظاہر ہوتے ہیں”  فرائیڈ

اگر ہم اپنے جذباتی مسائل کا سامنا نہیں کریں گے(اس لئے نہیں کہ ہم کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہم نہیں جانتے کہ کیسے کریں)اور انہیں دبا دیتے ہیں تو وہ ہمارے تحت الشعور میں جمع ہوتے رہتے ہیں یہانتک کہ تحت الشعور انہیں اپنے اندر رکھ نہیں پاتا۔ نتیجے میں وہ اوپر نچلی منزل تک آجاتے ہیں اور ناخوشی اور پریشانی کے ایسے دورانئے کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن کی کوئی وضاحت نہیں کی جاسکتی اور ہماری ذہنی صحت کی بربادی اور ذہنی صحت کے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

جذباتی حفظان صحت

لیکن جذباتی صدموں سے لڑنا کیسے ممکن ہے؟ کیا  جسمانی بیماریوں کے مقابلے میں جن سے ہم خوب واقف ہیں،کسی نہ دکھائی دینے والی  چیزسے،  جیسے جذبات،  نمٹنا ممکن ہے؟ ہمارے معاشرے میں جسمانی حفظان صحت پر عام زور ہے۔ ہاتھ صاف نہ ہوں تو ہم انہیں دھو لیتے ہیں۔زخمی ہوجائیں تو ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں۔ لیکن اپنے اندر کی دنیا کی دیکھ بھال اکثربھول جاتے ہیں۔ جذباتی حفظان صحت اپنے جذبات کی دیکھ بھال کا نام ہے؛ یہ اپنی جذباتی صحت پر توجہ دینے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کانام ہے تاکہ یہ خراب نہ ہوجائے اور ہم خوشگوار اور کارآمد زندگی گزار سکیں۔

 

ہوسکتا ہے یہ اصطلاح (جذباتی حفظان صحت)بہت سے لوگوں کو نئی معلوم ہو،  تاہم ہم سب ہی اپنی اپنی زندگی میں جذباتی حفظان صحت  پر عمل کرتے ہیں۔ جب بھی ہمیں دباؤ محسوس ہو ہم یہی کرتے ہیں۔جذباتی حفظان صحت کی اکثر مشقیں تعاملی میکینزم ہوتی ہیں،  ا ن میں سے چندصحتمندانہ اور دوسری آگے چل کر غیر صحتمندانہ ثابت ہوتی ہیں۔

:صحتمندانہ تعاملی میکینزم کی چند مثالیں یہ ہیں

  1. ورزش نہ صرف جسم کے لئے مفید ہے بلکہ اس سے جسم میں اینڈورفین (Endorphin)خارج ہوتی ہے یہ وہ ہارمون ہیں جن سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔
  2. روحانی سرگرمیاں جو دینی (نماز، عبادت) یا لادینی} یوگا، استغراق {(Meditation) دونوں ہو سکتی ہیں۔اگر درست طریقے سے اور باقاعدہ کی جائیں تو وہ ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہیں اور صحتمندی میں اضافہ کرتی ہیں۔
  3. اپنا اظہار کرنا جو صحتمند انداز میں ہو اور جن پر اعتماد ہو ان سے بات چیت کرنا۔
  4. سماجی سرگرمیاں ہمیشہ دباؤ کو کم کرنے کا زبردست ذریعہ ہیں۔ باہر نکلنا اور گروپ میں دوستوں کے ساتھ مشاغل کی مصروفیت تناؤ کو کچھ کم کرسکتی ہیں۔
  5. سفر ہمیں تکلیف دہ صورتحال سے دور لے جانے کا ایک موقع ہوتا ہے اور غور کرنے اور پریشانیوں کے حل کی تلاش میں مدد دیتا ہے۔
  6. مشاغل ہماری توجہ ہٹانے کا ایک ذریعہ ہیں اور دباؤ کم کرنے اور کسی سرگرمی میں شامل ہونے کا بہترین طریقہ ہیں۔
  7. تخلیقی سرگرمیاں جیسے کہ پینٹنگ، ڈانس،  شاعری،  آرٹ،  موسیقی وغیرہ ایک موقع فراہم کرتی ہیں کہ ہم اپنی پریشانی کو کسی خوبصورت  اور نمایاں ذریعہ اظہار میں ڈھال لیں جو ہمارے لئے سکون بخش بلکہ شاید دوسروں کے لئے بھی تسکین  دہ ہو۔
  8. مزاح پریشانی سے نمٹنے کا بہترین ذریعہ ہوسکتا ہے۔اس میں ہم کوئی مزاحیہ پروگرام سنتے یا دیکھتے ہیں یا خود اپنے لئے مزاح پیدا کرتے ہیں۔ مزاح اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو کسی ناگوار لمحے سے نمٹنے یا کشیدگی کی صورتحال کو ختم کرنے میں کارآمد ہوتاہے۔
  9. انسان دوستی یا دوسروں کے کام آنے سے بھی ناخوشگوار جذبات کو موثر طریقے سے مثبت اور تعمیری بنایا جاسکتا ہے۔دوسروں کی مدد کرنے سے ہم اپنی پریشانی کو کم کرسکتے ہیں۔

دوسری طرف غیر صحتمندانہ تعاملی میکینزم میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  1. کسی بھی چیز کی زیادتی: اگر صحتمندانہ سرگرمیاں بھی زیادہ کی جائیں تو غیر صحتمند ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر دباؤ کم کرنے کے لئے کھانا تو ٹھیک ہے لیکن اگر ہم باربار شغل کے طور پر کھانے لگیں تو ہم موٹاپے کا شکار ہوسکتے ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔
  2. خوداذییتی خود کو جسمانی تکلیف پہنچانا ہے (کاٹنا یا جلالینا) تاکہ اندرونی تکلیف سے دھیان ہٹ سکے۔
  3. منشیات کا استعمال کسی بھی مواد (تمباکو، منشیات، شراب) کا سہارا لے کے اپنی پریشانی کا احساس کم کرنا جس کے نتیجے میں اس مواد کی عادت پڑجائے۔
  4. جارحیت وہ غیرصحتمندانہ تعاملی میکینیزم ہے جو ہم سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اگر باس دباؤکا شکار ہے تو اپنا غصہ اپنے ملازمین پر نکالتا ہے یا اگر باپ پر دباؤ ہے تو وہ بچوں پر برہم ہوسکتا ہے۔
  5. سماجی علیحدگی کا وہ لوگ سہارا لیتے ہیں جنہیں دوسروں پر اعتماد نہیں ہوتااور سمجھتے ہیں کہ وہ تنہا ہی اچھے ہیں۔لوگوں سے الگ تھلگ رہنے سے اپنی خوداعتماد ی میں کمی کا احساس، غلط تصورات اوراپنے صدموں کی غلط تعبیر پیدا ہوسکتی ہے۔

ذہنی بیماری کا شکار افراد اکثرغیرصحتمندانہ تعاملی میکینزم اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ انہیں شدید جذبات سے نمٹنا پڑتا ہے اور ان طریقوں سے سکون جلد مل جاتا ہے۔ تاہم فوری سکون پہنچانے کے باوجود یہ غیر صحتمندانہ تعاملی میکینزم بعد میں شدید اور منفی اثرات پیدا کرتے ہیں۔اگر جذباتی صدموں کو وقت پر اور مناسب طریقے سے حل نہ کیا جائے تو منفی جذبات  پلتے رہتے ہیں اور ذہنی بیماری کی طرف لے جاتے ہیں۔

جذباتی صدموں سے نمٹنے کے موثر ترین طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ قریبی دوستوں،  اہل خانہ یا عزیزوں سے ان کے بارے میں بات کی جائے۔ اس طرح ہم سب جذباتی حفظان صحت برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس سرگرمی کا مقصد یہ ہے کہ:

  1. صدموں کو تحت الشعورسے شعور میں لے آیا جائے۔
  2. ان پر غور کرکے ان سے سمجھوتہ کیا جائے۔
  3. ہمارے شعور پر ان کے مسلسل منفی اثر کو روکا جائے۔

ہر شخص زندگی میں کسی نہ کسی لمحے پریشانی اور ناخوشی کے دورانیوں سے گزرتا ہے لیکن ہر شخص کو ذہنی بیماری نہیں ہوتی، کیونکہ ہم میں سے بہت سے لوگ جذباتی حفظان صحت کی موثرمشق کرتے رہتے ہیں اور جذباتی صدموں پر قابو پالیتے ہیں۔

ہم اپنے جذباتی صدموں سے عملا کیسے نمٹ سکتے اوردوسروں کو ان کا مقابلہ کرنے میں کیسے مدد دے سکتے ہیں،  اس کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ہمار ا ’دیکھ بھال سیکشن‘ دیکھئے۔