ذہنی بیماری

ذہنی بیماری کیا ہے

ذہنی بیماریاں مختلف امراض کا ایک گروپ ہے جسے نہ صرف عام لوگوں بلکہ سائنسی برادری میں بھی صدیوں تک غلط سمجھا گیا۔آج بھی،  کئی مفروضے اور غلط تصورات ذہنی صحت کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں جن کا نتیجہ معاشرے میں نام دھرنے کی شکل میں نکلا ہے۔ بیمارافراد اسی  وجہ سے مدد طلب نہیں کرتے حالانکہ اس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔

ذہنی صحت کے مسائل زیادہ تر دماغ میں عصبی کیمیائی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے جذباتی عدم توازن پیدا ہوکے خیالات کے مسخ ہونے اور آخر کار انہیں غیر مناسب روئیے اپنانے پر مجبور کرد یتاہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بھی شخص جس کا رویہ غیر مناسب ہواسے ذہنی صحت کے مسائل درپیش ہونگے۔کچھ ایسے معیار ہیں جن کی مدد سے ماہرین صحت مریض کی تشخیص کرتے ہیں۔  جو لوگ عجیب و غریب حرکت کریں ان کو ذہنی بیمار قرار دے دینانہ صرف درست نہیں بلکہ اس سے ان کلنکوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اصل بیماروں کی تکلیف دو چند ہوجاتی ہے۔

 یہ کیسے ہوتی ہے

اگر ہم اپنی جذباتی صحت کا مناسب خیال نہ رکھیں اور جذباتی حفظان صحت پر عمل نہ کریں یعنی جذباتی صدموں سے بخوبی نہ نمٹیں تو یہ صدمے ہمارے تحت الشعورمیں جم جاتے ہیں اور بالاخر ہمارے شعور پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ ناخوشی کی کیفیت طاری ہوجائے۔ ہم سب کو ہی کسی نہ کسی وجہ سے کبھی کبھی ناخوشی کے دور سے گزرنا پڑتا ہے۔البتہ ناخوشی کی طویل مدت، جس میں عصبی شکل پزیری بھی شامل ہوجائے بالاخردماغ میں عصبی کیمیائی تبدیلی کا سبب بن جاتی ہے اور نتیجہ ذہنی بیماری کی شکل میں نکلتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذہنی صحت کے کچھ مسائل کی بنیاد جینیاتی بھی ہوتی ہے یعنی وہ خاندان میں ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ تاہم اکثر بیماروں میں اس کی کوئی خاندانی تاریخ نہیں پائی جاتی یعنی وہ مرض مکمل طور سے جینیاتی نہیں ہوتا۔اگرجینیاتی امکان بھی موجود ہو تو بھی تجرباتی تبدیلیاں جوجذباتی صدمے سے ہوں وہ ان مسائل کا محرک بن سکتی ہیں اور چونکہ ہم سب ہی زندگی میں ناخوشگوارحالات سے دوچار ہوتے ہیں، ہم سب ہی کو ذہنی بیماری کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو کسی ذہنی بیماری کا تجربہ ہوا ہے یا نہیں اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ نے صدموں یا زندگی میں ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کے لئے کیا سیکھا ہے۔

ٓذہنی صحت کے بارے میں آگہی نہ ہونے اور معلومات بھی مسخ شدہ ہونے کی وجہ سے بے شمار مفروضے اور غلط تصورات نمودار ہوگئے ہیں۔ ان میں سے کچھ جو ہمارے معاشرے میں عام ہیں وہ یہ ہیں:

مفروضہ

حقیقت

ذہنی بیماری کالے جادو،یا کردار کی خامیوں یا ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ فشار خون (بلڈ پریشر)یا ذیا بیطس جیسی بیماری ہے جو جسم میں کسی کیمیائی تبدیلی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ذہنی بیمار لوگ تشدد کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ کل90 فی صد لوگ تشدد سے دور ہوتے ہیں بلکہ عام طور پرخود تشدد کا شکار ہوجاتے ہیں
بیمار کی شادی کردینے سے ان کی حالت بہتر ہوجاتی ہے۔ کسی بیمار کی شادی کروانے سے ان کی اور ان کے شریک حیات کی زندگی پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔
ذہنی بیمار افرادتندرست یامعاشرے کے نارمل فعال رکن نہیں بن سکتے۔ ذہنی بیماری کو سمجھنے اور علاج کے ضمن میں بڑی  ترقی ہوچکی ہے۔ بحالی ممکن ہے اور آج کئی متاثرین معاشرے میں معمول کا کردار ادا کررہے ہیں۔
بچوں کو ذہنی بیماری نہیں ہوسکتی۔ اگر بچوں کو کوئی جذباتی صدمہ ہوجائے اور/   یاان میں جینیاتی اثرات کا خدشہ ہو تو ان میں بھی ذہنی صحت کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔

یہ ہم پر کس طرح اثر کرتی ہے

ذہنی بیماریاں، جسمانی امراض سے اس اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں کہ ان کا اثر ہمارے خیالات، احساسات اور روئیے پر پڑتا ہے۔یہ اس بیماری کی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اسے سمجھنا اور اس سے سمجھوتہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔البتہ دماغی کیمیا ئی تبدیلیاں بھی جسمانی علامات کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔اس کا مشاہدہ ڈپریشن کے ساتھ جسمانی کمزوری یا اضطراب کے ساتھ دل کی دھڑکن کے تیز ہونے سے ہو سکتا ہے۔

اگر ہماری ٹانگ میں فریکچر ہوجائے تو ہمیں درد اسی مقام پر ہوتا ہے اور ہمیں پتا چل جاتا ہے کہ ہمیں کاسٹ پہننا اور ٹھیک ہونے کے لئے آرام کرنا پڑے گا۔ اگر ہم میں فشار خون کی تشخیص ہوجائے تو ہمیں غنودگی، سر درد اور کمزوری کی علامات ہو سکتی ہیں اور ہمیں پتا ہوتا ہے کہ ہمیں خون کا دباؤ کم رکھنے کے لئے دوا لینا ہوگی۔ ان دونوں صورتوں ا ور دوسری جسمانی بیماریوں کی صورت میں ہمارے خیالات اور جذبات ہمارے قابو میں ہوتے ہیں۔

البتہ اگر ہمیں ذہنی بیماری ہے تو صورتحال کچھ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔دماغ میں ہونے والی عصبی کیمیائی تبدیلیوں سے ہوسکتا ہے کہ ہمارے جذبات قابو سے باہر ہوجائیں،  خیالات مسخ ہوجائیں اور نتیجے میں ہمارے روئیے میں تبدیلی آجائے۔مثال کے طور پراگر ارم کو کوئی ذہنی بیماری ہے اسے زیادہ غصہ محسوس ہوسکتا ہے۔ چونکہ ارم کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے دماغ میں عصبی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں تو وہ اپنے غصے کی وجہ کسی بھی واقعہ کو سمجھ سکتی ہے جیسے بیٹی کا معمول سے قدرے تاخیر سے گھر آنا۔ اس کی سوچ کا انداز چونکہ مسخ ہوگیا ہے ہوسکتا ہے وہ اپنی بیٹی سے ناراض ہونے لگے اور بالاخربیٹی پر نامناسب انداز میں چیخنے لگے۔

اسی لئے اکثر کہا جاتا ہے کہ ذہنی بیماری نہ صرف متاثرہ شخص بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔

عام علامت

اگلے سیکشن میں ہم ذہنی صحت کے مختلف مسائل اور ان کی علامات پر بات کریں گے۔چونکہ ذہنی بیماری کا تجربہ ایک فرد کوذاتی طور پر ہوتا ہے،  اوردوسرے کسی فرد کے لئے یہ مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس کی علامات کا مشاہدہ کرسکے جبکہ ٹانگ ٹوٹ جائے تو زخم واضح دکھائی دیتا ہے۔جب ہمیں بیماری کی علامات دکھائی ہی نہ دیں تو ہمیں پتا کیسے چلے گا کہ اس شخص کو ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے؟

نہیں! ایسا ہوسکتا ہے اگر ہمیں ذہنی بیماری کی علامات کا علم ہو۔ابتدائی علامت جو ذہنی صحت کے تمام مسائل میں مشترکہ ہے وہ فعالیت میں تبدیلی ہے۔فعالیت سے مراد  جیسے کہ ” ذہنی صحت“  سیکشن میں بیان کیا گیا ہے یہ ہے کوئی شخص مناسب کارکردگی کا اہل ہواور معاشرے کا کارآمد رکن ہو۔

فعالیت ختم ہوجائے جو ذہنی بیماری کانشان ہے اوروہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بیماری کی علامات کی وجہ سے درج ذیل میں سے ایک یا اس سے زیادہ پہلو ؤں پر مضر اثر پڑرہا ہو:

  1. کام کرنے یا پڑھنے لکھنے میں تکلیف ہو جس سے کسی تعلیمی ادارے کو چھوڑنا پڑجائے یا اپنی ملازمت جاری نہ رکھ سکے۔
  2. تعلقات کا ٹوٹناجو خاص علامات کی وجہ ہومثلا و ہ شخص آ ٓدم بیزار، بے حد چڑچڑا، جارح یا بے حد وہمی ہوجائے۔
  3. اپنی دیکھ بھال سے بیگانہ ہوجائے اور نقصان دہ عادتیں اپنالے جیسے نشے کی عادت یا خطرے مول لینا۔

اگر آپ کو اپنے اردگرد کسی شخص میں ان میں سے کوئی علامت نظر آئے توجان لیجئے کہ یہ شخص ہوسکتا ہے کسی بیماری کا شکار ہو اور اسے پیشہ ورانہ مدد درکار ہو۔ ذہنی صحت کے خصوصی مسائل  کے بارے میں مزید معلومات کے لئے ہمارے ’ دیکھ بھال‘  سیکشن میں ملاحظہ کیجئے کہ ان متاثرہ افراد کی مدد کیسے کی جاسکتی ہے۔