ذہنی بیماری کی علامات

مختلف اقسام کیا ہیں؟

اگر آپ انٹرنیٹ پر یا سائیکیاٹری مینوئل میں ان خرابیوں کی فہرست تلاش کریں جن کو ذہنی بیماری کانام دیا جاتا ہے تو آپ کو درجنوں قسم کی تشخیص نظر آئیں گی۔اس سے بہت ابہام پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسی تشخیص کی کوشش اپنی مدد آپ ذرائع کرتے ہیں،لیکن ان کی پیچیدگیوں کو جانتے ہوئے متاثر ہ شخص کے لئے علاجی فائدہ بہت کم ہوتا ہے۔ہر متاثرہ شخص کا تجربہ منفرد ہوتا ہے اور اسے ذہنی بیماری کا محدود لیبل لگاکے ایک ڈبے میں بند نہیں کیا جاسکتا۔ذہنی بیماری کو عام انداز میں سمجھنے کے لئے ہم ذہنی صحت کے مسائل کی عام قسموں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے جو ذہنی بیماریوں کی مختلف شکلوں میں کسی نہ کسی انداز میں پائی جاتی ہیں۔

  1. ڈپریشن
  2. بے چینی
  3. مینیا
  4. نفسیاتی خلل
  5. لت

ڈپریشن

ڈپریشن ایک اصطلاح ہے جو عام طور سے زندگی کے ایسے تجربات کو بیان کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو ہمیں تھوڑا سا پریشان کردیتے ہیں۔اگر ہم امتحان میں ناکام ہوجائیں، ہمارا سیل فون گم ہوجائے یا والدین سے جھگڑا ہوجائے تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں ’ڈپریشن ‘  ہورہا ہے۔البتہ اس ڈپریشن کو اداسی کانام دیا جاسکتا ہے جوزیادہ موزوں ہے۔اداسی عام زندگی کا ایک پہلو ہے اور جذباتی دکھ کی ایک شکل ہے۔ درحقیقت اداسی فائدہ مند بھی ہے کیونکہ یہ شخصی بہتری کے سفر میں ہماری مدد کرسکتی ہے۔

طبی ڈپریشن کو عام اداسی سے خلط ملط نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جو دماغ میں عصبی کیمیائی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اگر کسی کو طبی ڈپریشن ہے تو اس کا موازنہ روزمرہ کی عام اداسی سے نہیں کیا جانا چاہئے۔ ڈپریشن اکثر اداسی سے زیادہ شدید اور کمزور کردینے والا ہوتا ہے اور کافی دیر تک طاری رہ سکتا ہے۔ طبی ڈپریشن کی علامات میں یہ شامل ہیں:

  1. غم کے شدید دورے جس کے ساتھ اکثر رونا بھی شروع ہوجائے۔
  2. انہی سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہوجائے جو پہلے بہت پسند تھیں۔
  3. شدید جسمانی کمزوری یا سستی، جس سے بستر سے نکلنے کی ہمت نہ رہے۔
  4. مستقبل کے بارے میں ناامیدی، جس سے حوصلہ پست ہوجائے
  5. اشتہا میں تبدیلی، نمایاں اضافہ یا کمی
  6. سونے کی عادت میں تبدیلی، نمایاں طور پر زیادہ سونا یا کم سونا
  7. اگر ڈپریشن انتہا کو پہنچ جائے اور مناسب مدد نہ مل سکے تو خودکشی کے خیالات۔

i6

طبی ڈپریشن کئی ذہنی بیماریوں میں لاحق ہوجاتا ہے، جیسے کج خلقی ہو، بڑا ڈپریسو ڈس آرڈرہو، اختلال دو قطبی یا شیزو فرینیاہو۔

بے چینی

ہم میں سے بہت سوں نے زندگی میں بے چینی کا لفظ سنا ہوگا۔ جب بھی ہمیں مستقبل کے بارے میں تناؤہونے لگے تو بے چینی کا محسوس ہونا معمول کی بات ہے۔تاہم اس بے چینی کو پریشانی کہنا زیادہ مناسب ہے۔  پریشانی ایک ناخوشگوار جذبہ ہے لیکن اعتدال میں رہے تو سود مند بھی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ہمیں زیادہ محنت کرنے کے لٗے اکساتا ہے۔ مثال کے طور پراگر احمدکے امتحانات ہونے والے ہیں اور وہ پریشان ہے تو وہ تیاری کے لئے مزید کوشش کرے گا،  اگر وہ پریشان نہ ہوتا تو اتنی نہ کرتا۔

تاہم،  طبی بے چینی،  طبی ڈپریشن کی ماننددماغ میں عصبی کیمیائی تبدیلیوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور انتہائی کمزور کرکے انسان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کردیتی ہے۔اگر کوئی یہ کہے کہ اسے طبی بے چینی ہے تو ہمیں اسے عام بے چینی نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ یہ ایک مرض ہے جس کے لئے پیشہ ورانہ علاج کی ضرورت ہے،  یہ لمبی مدت تک بھی لاحق رہ سکتی ہے۔طبی بے چینی کی علامات میں یہ شامل ہیں:

  1. شدید دباؤ کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہوجانا
  2. مستقبل کے بارے میں شدید گھبراہٹ اور خوف
  3. گھبراہٹ کا حملہ ہو تو سانس لینے میں دشواری ہونے لگے
  4. گلے میں کچھ اٹکنا اور منہ خشک ہوجانا
  5. بے اطمینانی، کپکپاہٹ اور ساکت نہ بیٹھ پانا
  6. یہ احساس کہ جیسے کوئی برا واقعہ پیش آنے والا ہے جیسے دنیا ابھی ختم ہوجائے گی اور سب کچھ فنا ہوجائے گا۔

i7

بے چینی کامرض مختلف رنگوں اور شیڈ میں نمودار ہوتا ہے لیکن ان میں اوپر دی گئی علامات پائی جائیں گی۔ چند مختصر مثالیں یہ ہیں:

  1. عام بے چینی خلل: یہ بڑھی ہوئی، غیر حقیقی بے چینی اور تناؤ، خواہ اس کا سبب معمولی ہو یا نہ بھی ہو۔
  2. اضطرابی خلل: اس کا شکار افراد کو دہشت کا احساس ہوتا ہے جو اچانک اور بغیر کسی انتباہ کے بار بار ہوتا ہے۔
  3. فوبیا: کسی خاص شے یا صورتحال کا خوف جن سے بے چینی پیدا ہو جیسے اونچائی کا خوف، مکڑیوں سے ڈر، بڑی سماجی تقریبات کا خوف۔
  4. صدمے کے بعد دباؤ کا خلل: کسی خوفزدہ کردینے والے صدمے، یا خطرناک واقعات، جن سے مریض کو وہ جب بھی یاد آئے توبے حد دہشت اور بے چینی ہونے لگے۔
  5. وسواسی جبری خرابی(Obsessive compulsive disorder)۔اس خرابی میں مریض کو وسواس کی وجہ سے شدید اضطراب رہتا ہے اور وہ اس اضطراب سے نمٹنے کی کوشش میں جبر ی روئیے اختیار کر لیتا ہے

مینیا

مینیا وہ حالت ہے جس سے ہم میں سے بہت کم کا براہ راست سامنا ہوتا ہے اسی وجہ سے اس کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔مینیا کوغلط فہمی کی بنا پر اکثر بے پناہ توانائی اور اچھے موڈ کا دورانیہ سمجھا جاتا ہے۔ہم میں سے کئی لوگ ’ مینیا‘ کے لفظ کو عام معنی میں ان ایام سے عبارت کرتے ہیں جب ہم عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ توانا اور پیداوار ی ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ صحیح نہیں کیونکہ مینیا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور امکانی طور پر تباہ کن ہوتا ہے۔

مینیادماغ میں عصبی کیمیائی عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور اسے توانائی کی وہ بے پناہ مقدار کہا جاسکتا ہے جو متاثرہ شخص کی شخصیت کے مطابق خود کو ظاہر کرتی ہے۔ مندرجہ ذیل علامات مینیا میں نمودار ہوسکتی ہیں:

  1. زیادہ توانائی کی وجہ سے فرط نشاط کی کیفیت جس سے متاثرہ فرد مختلف تخئیلات اور نئے کام اپنا لیتا ہے
  2. بڑھی ہوئی خود اعتمادی یا عظمت کا احساس جس سے متاثرہ فردیہ سمجھنے لگے کہ اسے زبردست صلاحیتیں یا خصوصی قوتیں عطا کی گئی ہیں۔
  3. شدید خوشی یا چرچڑاہٹ جس کا انحصار متاثرہ شخص کے موڈ پر ہوتا ہے۔
  4. لاپرواہی اور کمزور فیصلہ سازی، جس سے ایسے فیصلے سرزد ہوجائیں جونقصان دہ ہوں جیسے تیز رفتاری یا فضول خرچی۔
  5. بے قابو اور اضطرابی کیفیت جس سے متاثرہ شخص پر خطر رویہ اپنالے جیسے کہ جنسی بے راہروی، کثرت شراب نوشی یا جوئے بازی

i8

مینیا ایک ایسی ذہنی بیماری میں جنم لیتا ہے جسے اختلال دو قطبی کہتے ہیں جو شدید تباہ کن صورت ہے اور اس میں متاثرہ شخص ڈپریشن اور مینیا کے درمیان لٹکتا رہتا ہے۔

تاہم مینیا پر قابو ہو،  جسے ہائپو مینیا کہتے ہیں،  تو تخلیقی خیالات اور کام جنم لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری تاریخ میں کئی فنکار مینیا کے ادوار سے گزرتے دکھائی دیتے ہیں۔

 سائیکوسس

سائیکوسس ذہنی صحت کے تمام مسائل میں سب سے شدیدہے اور اس سے متاثرہ شخص خیالات کے بگاڑ کا اس درجے شکار ہوتا ہے کہ  حقیقت سے اس کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ کلاسیکی ذہنی بیماری معاشرے میں جانی پہچانی ہے اور اس سے متاثر افراد مکمل طور پر ناکارہ ہوجاتے ہیں۔

سائیکوسس دماغ میں عصبی کیمیائی تبدیلی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس میں مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ہیں:

  1. توہمات یا فریب نظر جو کسی محرک کے بغیر ہونے والے حسیاتی تجربے کو کہتے ہیں۔ اس میں متاثرہ شخص ایسی اشیا کو دیکھتا، سنتا،  سونگھتا یا محسوس کرتا ہے جن کا وہاں وجود نہیں ہوتا۔
  2. واہمے یعنی کسی ایسی بات میں مستحکم یقین جو سچ نہ ہو۔متاثر ہ شخص یقین کرنے لگتا ہے کہ کوئی اسے قتل کردے گا، یا اسے خدائی طاقت مل گئی ہے یا ایسے عقائد میں یقین جو حقیقت سے دور ہوں۔
  3. اتنا شدید دماغی خلل کہ متاثر ہ شخص یہ سمجھنے لگے کہ ہر شخص اسے نقصان پہنچانے والا ہے۔
  4. سماجی تنہائی جو لوگوں سے رابطے میں نا اہلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
  5. غلط رویہ جس میں متاثرہ شخص عجیب حرکتیں کرتا ہے جیسے گملے کو ہیٹ کی طرح پہن لینا،بے تحاشا مسکرانا یا ہنسنا، اپنے ہاتھوں پر انڈے توڑنا۔
  6. ڈپریشن کی وہ علامات جو پہلے بیان کی گئیں۔

i9

سائیکوسس کسی ذہنی بیماری مثلا شیزو فرینیاکا حصہ بھی ہوسکتا ہے، منشیات کا نتیجہ ہوسکتا ہے یا مختصر عرصے کے لئے طاری ہوسکتا ہے۔

لت پڑجانا

لت پڑجانا وہ صورت ہے جس میں متاثرہ شخص کسی نشہ آور شے (مثال کے طور پر شراب،  کوکین،  سگریٹ)کا عادی ہوجائے یا کسی  بری عادت کا شکار ہوجائے (جیسے جوا،  جنسی لت،  خریداری)جس میں لطف اندوزی تو ہے لیکن مسلسل استعمال / یا باربار کرنے سے لت بن جائے اور روزمرہ زندگی کی ذمے داریوں  جیسے ملازمت یا ذاتی زندگی میں خلل پڑنے لگے۔ اگرچہ یہ رویہ لطف انگیز تو ہوتا ہے اور مختصر عرصے کے لئے تناؤ سے بھی نجات دیتا ہے لیکن اس میں طویل عرصے تک مبتلا رہنے سے شدید اور دیرپا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ گرچہ لت پڑجانا ذہنی بیماری کی ایک الگ ہی قسم ہے جو عام طور پر ذہنی صحت کے دوسرے مسائل  جیسے ڈپریشن اور بے چینی کے ساتھ جنم لیتی ہے۔

پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ نشہ آور مواد یا لت خود بخود متاثرہ شخص کو اپنا عادی بنالیتی ہے۔ تاہم عصر حاضر کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ذہنی صحت کے بنیادی مسائل اکثر عادی رویوں کا لازمی سبب بنتے ہیں۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ بنیادی مسائل میں کمی ہوجائے تو عادی روئیے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

منشیات کے استعمال اور اس کی زیادتی میں بھی فرق ہے۔منشیات کے استعمال کا مطلب ہے کہ اسے مختصر عرصے کے لئے تحریک پیدا کرنے کے لئے لطف اندوزی کی خاطرلیا جائے اور اس سے استعمال کرنے والے کی کارکردگی میں کوئی دیرپا خرابی پیدا نہ ہو۔ البتہ  منشیات کے استعمال میں اس کے اتنے زیادہ عادی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے کہ نشئی کو اپنی حرکات و سکنات پر قابو نہیں رہتا اور نتیجے میں ان کی زندگی پر برا اثر پڑتا ہے۔