ذہنی صحت

ذہنی صحت

مختلف اداروں اور افراد نے ذہنی صحت کو کئی مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ ہم ذہنی صحت کو ذہنی سرگرمی کی کیفیت کہتے ہیں۔اس سے ہماری سوچنے، غور کرنے اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی اہلیت کا تعین ہوتا ہے۔ہم جو بھی کرتے ہیں وہ ہماری ذہنی صحت کی کیفیت کے اثر کے تحت ہوتا ہے۔ذہنی صحت اچھی ہو تو کام موثر ورنہ کمزور ذہنی صحت ہماری فعالیت کوخراب کردیتی ہے۔ فعالیت کسی بھی فرد کی اس صلاحیت کو کہتے ہیں جو کام کو موزوں طریقے سے انجام دیتی ہے اور وہ معاشرے کا ایک پیداواری رکن ہوتا ہے۔ اس کے تین پہلو ہیں:

  1. کام کرنے یا پڑھنے لکھنے کی استعداد۔
  2. دوسرے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی اہلیت۔
  3. خوداپنی موثر دیکھ بھال کی اہلیت۔

ذہنی صحت کا ہماری جسمانی اور جذباتی صحت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک میں تبدیلی ہو تو دوسری دو متاثر ہوتی ہیں۔ مثال کے طورپراگر نور کو کوئی بڑا جذباتی صدمہ پہنچتا ہے جیسے کسی عزیز کی موت اور وہ اس پر موثر طریقے سے قابو نہیں پاسکتی تو اس سے اس کی جذباتی صحت خراب ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ اس کی ذہنی صحت کمزور ہوسکتی ہے اور پھر اس کی قوت ارتکاز پر اثر پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے کہ نور اپنی جسمانی صحت پر توجہ دینا چھوڑ دے اور ممکن ہے کہ اس تناؤ سے نمٹنے کے لئے وہ نقصان دہ عادتیں اپنالے جیسے سگریٹ نوشی جو جسمانی صحت کی خرابی کی وجہ بن جائے۔اس لئے ضروری ہے کہ صحت کے تمام پہلوؤں پر توجہ دی جائے۔

i4

دماغ

ہم خوش باش رہتے اور پھلتے پھولتے ہیں کیونکہ ہمارے مختلف جسمانی اعضامختلف لازمی افعال کام کرتے رہتے ہیں اور ہماری فعالیت برقرار رہتی ہے۔ مثال کے طور پر، دل خون پمپ کرتا ہے، جگر زہریلے مادوں کو خارج کرتا اور گردے ہمارے جسم میں پانی کی سطح برقرار رکھتے ہیں۔

دماغ سب سے اہم عضو ہے کیونکہ یہ جسم کا کنٹرول مرکز ہے۔ اگر کوئی بھی دوسرا عضو کام کرنا چھوڑ دے تو ہم ٹرانسپلانٹ کے ذریعے اسے تبدیل کرواکے یا دیگر طریقہ علاج اپنا کے بچ سکتے ہیں۔البتہ دماغ کو چوٹ لگنا بہت نقصان دہ اور بعض اوقات زندگی اورموت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہ ہم انسانوں کی ہر چیز کو کنٹرول کرتا ہے، جس میں حرکات و سکنات، ماحول کو محسوس کرنا، اور ہمارے جذبات کو قابو میں رکھنا۔دماغ میں ہر سیکنڈ میں ہزاروں کیمیائی ردعمل پیدا ہوتے ہیں جوخیالات،افعال اور رویوں کوجنم دیتے ہیں اور ہم ان کے ذریعےماحولیاتی محرکات کا جواب دیتے ہیں۔مختصر الفاظ میں، دماغ ان داخلی طریقوں اوررویوں کواحکامات دیتا ہے جو ہماری بقا کو قائم رکھتے ہیں۔

دماغ کی اہمیت کی ایک اور و جہ ہے، اس کی مطلق پیچیدگی، اور مختلف پہلوجن کو ہم سمجھنے کی ابھی کوشش ہی کررہے ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ دماغ دوسرے کسی بھی عضو کی طرح ہے کہ جیسے جیسے ہماری عمر زیادہ ہوتی ہے، وہ صرف سائزمیں تبدیل ہوتا ہے اور اس میں کوئی خاص کیمیائی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔تاہم حال میں ہی یہ دریافت ہوا ہے کہ دماغ یوں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے کہ زندگی کے ہمارے تجربات اس کی عصبی کیمیائی ساخت کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اس کو عصبی شکل پزیری (neuroplasticity)کہتے ہیں، عصبی معنی دماغ اور شکل پزیری معنی تبدیلی کی اہلیت۔ مثال کے طور پر، نیو روٹرانسمیٹریعنی عصبی ناقل سیروٹونن ان افراد میں کم ہوتا ہے جو ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔اس دریافت سے اس بیماری کے لئے چند دوائیں بنانے میں مدد ملی ہے

مثال کے طور پر جب ہم گٹا ربجانا سیکھنے کی ابتدا کرتے ہیں، تو شروع میں اتنا اچھا نہیں بجا سکتے، لیکن اگر مشق کرتے رہیں تو دھیرے دھیرے بہتر ہوتے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے دماغ میں وہ عصبی کیمیائی تبدیلیاں ہیں جوتجربے کی بنا پر سیکھنے سے واقع ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح اگر ہم گاڑی چلانا شروع کردیں تو شروع میں تو تھوڑا سا خوف اور غیر یقینی ہوتی ہے۔ البتہ جوں جوں ہم مشق کرتے رہتے ہیں تو ہم آہستہ آہستہ بہتر ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ڈرائیونگ کی مشق کا تجربہ ہمارے دماغ کی عصبی کیمیا ئی ساخت میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے۔

پیدائش سے لے کرموجودہ لمحے تک ہماراجو بھی تجربہ ہوتا ہے، وہ ہمارے دماغ کی جسمانی ساخت اور نتیجے میں ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔اور پھر ہماری ذہنی صحت اس پر اثر ڈالتی ہے کہ ہم روز مرہ زندگی کو کیسے دیکھتے ہیں اورگزارتے ہیں، کیسے اپنے روزمرہ معمولات نمٹاتے ہیں، اور دوسروں سے کیسے پیش آتے ہیں اور اسی وجہ سے صحتمند فعالیت کے لئے اچھی جذباتی، ذہنی اور جسمانی صحت کے درمیان ایک صحتمندانہ توازن ضروری ہے۔ اپنی اندرونی کیفیتوں اور بیرونی تجربات کے درمیان تعلق کو سمجھنا ایک مکمل صحتمندانہ طرز زندگی کے لئے پہلے قدموں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔