صحت یابی

صحت یابی کیا ہے؟

صحت یابی یا بحالی کا سادہ الفاظ میں مطلب تندرستی کے معمول اور فعال حالت کی طرف واپسی ہے۔ذہنی بیماری سے صحت یابی کے معنی جسمانی بیماری سے شفا سے مختلف ہیں۔اگر ہمارا گلا خراب ہے تو ہمیں پتا ہے کہ ٹھیک ہونے کے لئے ہمیں آرام، دوااور بھاپ لینے کی ضرورت ہے۔اسی طرح اگر ہمیں8 یرقان ہوجائے تو ہم جانتے ہیں کہ ہمیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہے ا ور صحت یابی کے لئے دوا کھانا ہوگی۔ صحت یابی کا مقصد ان تمام صورتوں میں بیماری کی علامات کا خاتمہ ہے۔

تاہم، ذہنی بیماریوں کا راستہ زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ صحت یابی کا مقصدصرف علامات کے خاتمے پر توجہ نہیں ہونا چاہئیے ۔وہ اس لئے کہ ذہنی بیماری کی علامات کا مکمل خاتمہ مشکل ہے اورصحت یابی کی غیر حقیقت پسندانہ توقعات سے بیمار کو محض مایوسی ہی ہوتی ہے ۔

ذہنی بیماری سے فعالیت ختم ہوجاتی ہے اور بیمار زندگی میں سرگرمی سے حصہ نہیں لے پاتا۔اس لئے ذہنی بیماری سے صحت یابی کا مطلب نہ صرف علامات کا خاتمہ ہے بلکہ بیمار کو ضروری مدد حاصل ہو اور وہ اپنی کیفیت سے نمٹنے کے لئے ضروری ہنر سیکھ سکے۔ اس سے بالاخر وہ معاشرے کے ایک پیداواری رکن بن سکیں گے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ذہنی بیماری سے صحت یابی ممکن ہے۔پہلے یہ سمجھا جاتا تھاکہ ذہنی بیماری سماجی سزائے موت ہے، کیونکہ بیمارشخص پاگل خانے میں عمر بھر کے لئے رہنے پر ہوجاتا تھا، اس پر تجربے کئے جاتے اور غیر انسانی ماحول میں رکھا جاتا۔البتہ آج علاج کی مختلف صورتیں موجود ہیں جن سے انتہائی سنگین کیفیت کے علاج میں بھی مدد کا امکان ہے۔

صحت یابی کا سفر

صحت یابی یا بحالی ایک سفر ہے جو تمام بیماروں کو ٹھیک ہونے کے لئے اختیار کرنا پڑتا ہے۔جسمانی بیماریوں کے متعین معالجانہ نظام کے برعکس ذہنی بیماری سے شفا کے راستے بیمار کے لحاظ سے مختلف ہوجاتے ہیں۔ذہنی بیماری چونکہ کچھ تو زندگی کے ناموافق تجربات کے اثرات کا نتیجہ ہوتی ہے جو اپنی فطرت میں بہت انفرادی ہوتے ہیں اس لئے یہ قیاس کرنا منطقی لگتا ہے کہ صحت یابی کا سفربھی ہر بیمار کے لئے منفرد ہوگا۔ صحت یابی کے لئے کوئی متعین فارمولا نہیں اور ایک بیمار کے لئے علاج کے چند کارآمد طریقے کسی دوسرے کے لئے ممکن ہے مفید نہ ہوں خواہ ان کی بیماریوں کی تشخیص ایک جیسی ہو۔

i10

یہ بھی ضروری ہے کہ ذہنی بیماری سے صحت یابی کی راہ میں حقیقت پسندانہ توقعات رکھی جائیں۔ اگر ہمارا گلا خراب ہو تو ہم جانتے ہیں کہ علاج کرانے کا مطلب سیدھے سادے طریقہ کار سے گزرنا ہوگا۔البتہ ذہنی بیماری سے صحت یابی کے سفرکا طریقہ کار کئی نشیب و فراز سے گزرتا ہے۔کبھی کبھی ہمیں ایسا لگے گا کہ ہمارا مکمل علاج ہوگیا ہے اور ہم بہت ٹھیک ہیں، لیکن ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگاکہ اس کے بعد بھی مرض پلٹ سکتاہے۔ اگر مرض پلٹ آئے تو ہمیں خود کو یہ یاد دلانا ہوگا کہ مرض کا عود کر آنا اس سفر کا ایک حصہ ہے اور ہمیں علاج پر پابندی سے عمل کرنا ہوگا تاکہ دوبارہ بہتری ہوسکے۔

صحت یابی کے مراحل

علاج کے سفر کو شروع کرنے اور ثابت قدمی سے جاری رکھنے کے لئے بیمار کو صحت یابی کے طریقہ کار کے مختلف مراحل سے گزرناہوگا۔ برائے کرم نوٹ کر لیجئے کہ نیچے دئیے گئے مراحل ایک عام خاکہ ہیں جو اصل زندگی میں اتنے سیدھے سادے نہیں ہوتے اور ہر بیمار پر لاگو نہیں کئے جاسکتے۔ہم سمجھتے ہیں کہ صحت یابی کے عمل میں پانچ مرحلے ہوتے ہیں اور چار طریقہ کار جو ان مراحل کو جوڑتے ہیں۔ ہر مرحلے اور طریقہ کارکے لئے درکار وقت ہر بیمار کے لئے مختلف ہوتا ہے۔

  1. انکار:
    یہ وہ مرحلہ ہے جس میں بیماری کی علامات متاثرہ شخص کی زندگی کو منفی انداز میں متاثر کرنے لگتی ہیں۔ لیکن ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں آگہی نہ ہونے اور علاج کی طرف رجوع کرنے پر بدنامی کے خطرے کی وجہ سے متاثرہ شخص اپنے مسائل کے بارے میں بے خبر رہتا ہے۔
  2. جدوجہد:
    یہ عمل کافی چیلنج آمیز ہے اس میں متاثرہ شخص بیماری کی علامات سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہوئے معاشرے میں خود کو نارمل ظاہر کرنے اور فعال رہنے کی کوشش کرتا ہے۔تاہم اس مرحلے میں متاثرہ شخص سے کئی غلطیاں ہوسکتی ہیں اور خود کو یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو ضرر پہنچا سکتا ہے۔ اس کی بیماری اس کے ارد گرد کے لوگوں کو نظر آنے لگتی ہے۔
  3. بصیرت:
    اس مرحلے میں متاثرہ شخص کو آہستہ آہستہ یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ گڑبڑ ہے اور اپنے روئیے اورموڈ میں تبدیلی کا تعلق محض کسی اخلاقی خامی یا کردار سے نہیں۔
  4. صحت بالکل خراب:
    اس دوران بیمار کی نمٹنے کی اہلیت حد کو پہنچ جاتی ہے اور آخر کارصحت بالکل جواب دے جاتی ہے۔اس کے نتیجے میں خودکشی کی کوشش یا اچانک کوئی عجیب اور جنونی حرکت سرزد ہوناجس سے خود اس کو یا ارد گرد کے لوگوں کو نقصان پہنچے۔
  5. قبول کرلینا:
    یہ مر حلہ سب سے اہم ہے۔اس میں نہ صرف بیمار کو یہ تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے بلکہ اس کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ یہ تسلیم کرنا کہ کسی کو ذہنی بیماری ہے ، مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ بدنامی جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ تسلیم کرنے کامطلب صرف اپنی بیماری کو ماننا نہیں بلکہ یہ بھی جان لینا ہے کہ صحت کے بالکل جواب دے جانے سے پہلے کے ہمارے افعال اس بیماری کی وجہ سے سرزد ہوئے اور وہ ہمارے قابو میں نہیں تھے۔
  6. امید:
    صحت یابی کی امید ایک لازمی مرحلہ ہے کیونکہ اس سے بیمار میں مدد لینے کی ترغیب پیدا ہوتی ہے۔ امید خود سمجھ میں آجانے یا اپنے جیسے ان افراد سے ملنے جلنے سے ابھرتی ہے جو اسی بیماری سے صحت یاب ہوچکے ہوں اور ایک مثال بن چکے ہوں۔
  7. علاج:
    اس مرحلے میں بیمار علاج کے مختلف طریقے اور ذہنی صحت کے مختلف ماہرین سے رجوع کررہے ہوتے ہیںیہانتک کہ انہیں اپنے لئے کوئی موزوں ماہر مل جاتا ہے۔ علاج کے مختلف طریقہ کار موجود ہیں اور ہر بیمار کو وہ علاج تلاش کرنا ہوتا ہے جو ان پر اثرکرے۔ اس مرحلے میں یہ عام بات ہے کہ بیمار کو اپنا طریقہ علاج کئی بار تبدیل کرنا پڑے۔اگر بیمار کو موزوں علاج تک پہنچنے میں وقت لگ رہا ہو تو اسے مایوسی ہونے لگے اور وہ یہ سلسلہ ہی بند کردے۔تاہم اس صورتحال میں یہ یاددہانی ضروری ہے کہ ہمیں خود کو بہتر بنانا ہے اور اس وقت تک طریقہ علاج تلاش کرتے رہنا ہے جب تک موزوں طریقہ کار نہ مل جائے۔
  8. استحکام:
    موزوں طریقہ کار پر مطمئن ہوجانے کے بعد بیمارکو اب استحکام کا احساس ہونے لگتا ہے اور اس دوران انہیں اپنی بیماری کے بارے میں مزید شعور ہونے لگتا ہے جووہ موڈ یا کیفیت میں تبدیلی کی علامات کی شناخت اور مرض کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کے ذریعے حاصل کرلیتے ہیں۔
  9. صحت یابیِ:
    یہ سفر کا آخری مرحلہ ہے اور اس میں بیمار افراد، صحت یاب افراد کی صف میں شامل ہونے لگتے ہیں۔ اس مرحلے میں صحت یاب افراد جلے ہوئے پلوں کی دوبارہ تعمیر یعنی نقصانات کو زائل کرنے کا عمل شروع کرتے ہیں اور سرگرمی سے حصہ لے کے زندگی میں معنی تلاش کرلیتے ہیں۔وہ اپنے تعلقات بہتر بناتے، کام/ پڑھائی دوبارہ شروع کرتے اور معاشرے کے پیداواری رکن بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

صحت یابی کے وسائل

قبولیت کے مرحلے کے بعد بیمار افراد صحت یابی کے وسائل کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔ان میں سب سے اہم وسیلہ پیشہ ورانہ مدد ہے، جس کے بغیر صحت یابی کا سفر شروع کرنامشکل ہوتا ہے۔پیشہ ورانہ مدد کے مختلف طریقہ کار اگلے سیکشن میں بیان کئے جائیں گے۔
پیشہ ورانہ مددکے علاوہ اور بھی ایسے اقدا م ہیں جو بیمار افراد خود اٹھا سکتے ہیں:

  1. غذا:
    ہم جو کھاتے ہیں اس کابہت اثر ہمارے مزاج یا موڈ یا کیفیت پر پڑتا ہے۔ ایک متوازن غذا کھانا بہت اہم ہے جس میں خوراک کے تمام گروپ شامل ہوں اور کھاناوقت مقررہ پر اور مناسب مقدار میں کھایا جائے۔
  2. معمول:
    یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے سونے/ جاگنے کا سلسلہ معمول کے مطابق ہو۔اگر ہمیں کافی نیند نہ ملے ، رات کو دیر سے سوئیں اوردن میں دیر سے اٹھیں یا بہت زیادہ سونے کی عادت ہوتو اس سے ہماری ذہنی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ نیند کی حفظان صحت کی مشق صحت یابی کے لئے بہت اہم ہے۔
  3. فعال رہنا:
    بیمار افراد جو غلطی عموما کرتے ہیں وہ یہ یقین ہے کہ صحت یابی کے لئے کام سے چھٹی لینا چاہئے۔ تناؤ بھری صورتحال سے چھٹی لیناممکن ہے فائدہ مند ہو لیکن کسی نہ کسی کام میں مصروف ہونا اہم ہے۔ ورنہ ذہنی بیماری کے ساتھ پیدا ہونے و الے منفی خیالات ذہن پر غالب آجاتے ہیں اور صحت یاب میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔طویل عدم فعالیت( خالی بیٹھے رہنا) عمر رسیدہ افراد میں ذہنی صحت کے مسائل کا ایک بڑا سبب ہے۔
  4. سماجی تعاون نیٹ ورک:
    سماجی تعاون نیٹ ورک اس لحاظ سے اہم ہیں کہ اگر ہم دوبارہ بیماری کی طرف پلٹیں تو وہ تحفظ کا بندوبست کرسکتے ہیں۔بااعتماد لوگوں کے قریب ہونے سے جن کا ہماری زندگی پہ مثبت اثر ہو واقعی صحت یابی میں اور دوبارہ بیماری سے بچانے میں مددملتی ہے۔اسی لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ذہنی بیماری کی ابتدا میں خراب ہوگئے تعلقات پر کام کیا جائے۔
  5. ضرررساں عادات کا ٹھیک کرنا:
    ضرررساں روئیے جس سے شاید بیماری کے دوران ہمیں مدد ملی ہو، جیسے منشیات کا استعمال اور لت، سے چھٹکارا پانا۔ اگر یہ عادات برقرار رہیں تو بیماری کے پلٹ آنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
  6. روحانیت اور غور وفکر:
    دیکھا گیا ہے کہ ان سے بھی صحت یابی میں بڑی مدد ملتی ہے اور اس میں مذہبی عبادات بھی شامل ہیں جوخلوص سے کی جاتی ہیں۔درحقیقت یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ باقاعدہ غور وفکر سے دماغ میں عصبی کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں جوذہنی صحت اور مجموعی تندرستی کو بہتر بناتی ہیں۔