پیشہ ورانہ مدد

پیشہ ورانہ مدد کے مختلف انداز کیا ہیں؟

ذہنی بیماریوں کی افہام وتفہیم میں بہت پیش رفت ہوئی ہے اورآج اس سے متاثرہ افراد اب سے محض چند عشرے پہلے کے لوگوں کے مقابلے میں بے حد خوش نصیب ہیں۔آج علاج کے مختلف طریقہ کار موجود ہیں اور یہ علاج بے حد سنگین صورتوں میں بھی مفید ثابت ہوا ہے۔یہ سمجھ لینا بہت اہم ہے کہ علاج کی مختلف تر اکیب مختلف بیماروں کے لئے مفید ہوتی ہیں۔اس لئے شاید آپ کے لئے یہ ضروری ہو کہ مختلف علاجّ آزمائیں اور دیکھیں کہ کونسا آپ کے لئے موزوں ہے۔

ذہنی صحت کی خدمات بھی اپنے انداز نظر میں آگے بڑھی ہیں۔ تحقیق نے واضح کیا ہے کہ ذہنی بیماروں کا طویل عرصے تک پاگل خانوں میں داخل رہنا جو پہلے ہوتا تھا، اتنا مفید نہیں جتنا کہ ان کی کمیونٹی کے درمیان رہ کر دیکھ بھال ہوتی ہے جس میں بیماروں کو ان کے گھریلو ماحول میں رکھ کر علاج فراہم کیا جاتا ہے۔اس سے علاج کے جاری رہتے ہوئے بیماری سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے انہیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ وہ تنہا رہ جائیں گے یا معاشرے میں دوبارہ کیسے ضم ہونگے۔تاہم بیمار وں کو چند صورتوں میں اسپتال میں داخل کرانا پڑتا ہے تاکہ صحت یابی میں مدد مل سکے۔

علاج کی صورتوں کو چھ مختلف درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

  1. دوائیں
  2. بات چیت کے ذریعے علاج
  3. بجلی کے جھٹکوں سے علاج
  4. بحالی کے مراکز
  5. متبادل علاج
  6. ساتھیوں کے تعاون کی تھراپی

i13

دوائیں

دوائیں ( سائیکوفارما کولوجی) ماہرین نفسیات ( سائیکیا ٹرسٹ )تجویز کرتے ہیں۔ وہ ان کیسوں میں مدد کرتے ہیں جہاں ذہنی بیماری کی علامات اتنی سنگین ہوچکی ہوں کہ ان کی وجہ سے بیمار کو بہت تکلیف ہورہی ہو۔تاہم ، جسمانی بیماریوں کی دواؤں کے برعکس ، نفسیاتی دوائیں کوئی علاج نہیں ہیں بلکہ ذہنی بیماری کی علامات کو کنٹرول کرنے اور ان سے نمٹنے کے کام آتی ہیں۔انہیں علاج کے دوسرے طریقوں کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے تاکہ بیمار کو مکمل افاقہ ہوسکے۔علاوہ ازیں کسی ایک مخصوص عارضے کے لئے کوئی متعین طریقہ علاج نہیں ہے۔ کچھ دوائیں ایک مریض کے لئے بہت فائدہ مند ہونگی لیکن دوسرے کے لئے بالکل کام نہیں کرینگی، خواہ دونوں کے مرض کی تشخیص ایک ہی ہو۔ عام طور پر ماہرین نفسیات مختلف دوائیں آزماتے ہیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ کونسی مریض کے لئے سب سے مفید ہے۔ یہ عام طریقہ کار ہے اور اس میں پریشانی تو ہوتی ہے لیکن مریض کا اس کے مطابق عمل کرنا لازمی ہے۔
:نفسیاتی دوائیں کئی قسم کی ہوتی ہیں، ان میں سب سے عام یہ ہیں

اینٹی ڈپریسنٹ: ڈپریشن کی علامات سے نمٹنے کے لئے۔
اینگزاؤلائٹکس: اینگزائٹی کی علامات میں آرام کے لئے
موڈ اسٹیبلائزر( متوازن کرنے والی): اختلال دو قطبی میں مینیا کی علامات کو کنٹرول کرنے کے لئے
اینٹی سائیکوٹکس: سائیکوسس کی علامات کو کنٹرول کرنے کے لئے۔

مختلف درجہ بندی کے باوجود مختلف دوائیں مختلف صورتوں کے لئے بدل بدل کے استعمال کرائی جاسکتی ہیں۔مثلا کچھ اینٹی سائیکوٹکس دوائیں مینیا اور ڈپریشن میں کام آسکتی ہیں جبکہ موڈ متوازن کرنے والی دوائیں ڈپریشن کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں۔
ایک اور سچائی جس سے مطابقت پیدا کرنا پڑتی ہے وہ یہ کہ ذہنی یا نفسیاتی بیماری ایک دائمی مرض بھی ہوسکتی ہے جس کے لئے طویل عرصے تک طبی دیکھ بھال کی ضرورت پڑے جیسے کہ ذیابیطس یا بلند فشار خون( ہائی بلڈ پریشر) میں ۔اگر آپ بلند فشار خون کی دوا لینا بند کردیں تو آپ کا بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے جس سے اسٹروک ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اگر نفسیاتی بیمار اینٹی ڈپریسینٹ لینا بند کردیں جو ان کے لئے تجویز کی گئی ہے تو خواہ وہ خود کو کتنا ہی اچھا محسوس کررہے ہوں اس سے مرض دوبارا پیدا ہوسکتا ہے۔ ذہنی صحت کے کچھ مسائل میں جیسے کہ ڈپریشن یا اینگزائٹی کی صور ت میں شفایابی کے طویل عرصے بعد دوا کو دھیرے دھیرے بند کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اسے ایک ماہر نفسیات سے مشورہ کرنے کے بعد اور اس کی ہدایات کے مطابق کرنا چاہئے۔لہذا دوا کے طریقہ کار پر عمل کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے خواہ آپ کو ایسا کیوں نہ لگے کہ اب آپ ٹھیک ہیں۔

یہ حقیقت بڑی جانی پہچانی ہے کہ نفسیاتی دواؤں کے ذیلی اثرات ہوتے ہیں جن سے پریشانی ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ سے بیمار ان دواؤں کو کھانے سے بچتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی بیمار کی دوا جاری رکھنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ نفسیاتی دوائیں ذیلی ثرات رکھتی ہیں لیکن ذیلی اثرات تو دوسری بیماریوں کی دواؤں کے بھی ہوتے ہیں۔یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ بیمار کی ذہنی صحت کی بہتری ان ذیلی اثرات کے مقابلے میں برتر ہے کہ نہیں۔اگر صورتحال ایسی ہو تو دوا کاجاری رکھنا بہتر ہوگا۔اگر نہیں توبیمار اپنے ماہر نفسیات کو بتائے جو تبدیل کرکے کم ذیلی اثرات والی دوا تجویز کردے گا۔

باتوں کے ذریعے علاج

باتوں کے ذریعے علاج( سائیکو تھراپی) عام طور پر تھراپسٹ ( سائیکالوجسٹ یا کونسلر) کرتے ہیں اگرچہ چند سائیکیاٹرسٹ بھی اس تھراپی کے لئے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ذہنی صحت کے مسائل چونکہ اکثر ذہن میں عصبی کیمیائی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ، تو یہ بات حیران کن لگتی ہے کہ اپنے مسئلے کے بارے میں صرف باتیں کرنے سے ان کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اگر ہم دماغ کی نوعیت اور اس کی موروثی عصبی شکل پزیری کے سیکشن کی طرف واپس جائیں تو ہمیں یاد آئے گا کہ ہمارے تجربات کس طرح ہمارے دماغ کی کیمیائی ساخت کو تبدیل کرتے ہیں ۔ اس طرح ناخوشی کا طویل عرصہ ذہنی بیماری میں بدل سکتا ہے۔ البتہ دماغ کی یہی نوعیت ہے جو اسے ان تجربات کے ذریعے صحت یاب ہونے میں مدددیتی ہے جو مثبت اثر ڈالتے ہیں ۔ایسا ہی ایک مثبت تجربہ باتیں کرنے کے ذریعے علاج ہے۔تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ایک تربیت یافتہ تھراپسٹ کے ساتھ تھراپی سیشنز کا ایک سلسلہ دماغ کی کیمیائی ساخت میں تبدیلی کرکے علاج کرسکتا ہے۔

باتوں کے ذریعے علاج ہمیں اپنے مسائل سے نمٹنے میں اس طرح مدد دیتا ہے کہ وہ ہمارے تحت الشعور میں موجود جذباتی صدموں تک پہنچتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے جذباتی صحت سیکشن میں بتایا ہے ، ہمار ی آگہی کے تحت الشعوری حصے میں وہ تمام خیالات، یادیں اور احساسات موجود ہوتے ہیں جن کا ہمیں شعور نہیں ہوتا اور وہ اکثر دب جاتے ہیں کیونکہ ان کے سنگین ہونے کی وجہ سے ان سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے۔ البتہ یہ ناخوشگوار تحت ا لشعوری عمل ہماری آگہی کے شعور ی حصے پر ایک اثر ڈالتا رہتا ہے۔اس سے بالاخر ہم ایسے انداز میں سوچنے اور عمل کرنے لگتے ہیں جن سے ہمیں اور ہمارے ا رد گرد کے لوگوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ تھراپی ان صدموں کو تحت الشعور سے شعور تک لانے ، ان سے نمٹنے اورآخر کارانہیں ہمارے شعور پر اوراس کے بعدہماری زندگی پرمنفی اثر ڈالنے سے روک دیتی ہے۔
تھراپی مختلف قسم کی ہوتی ہے (رویوں کی ادراکی تھراپی، معاون تھراپی ، نفسی ڈائنامکی علاج)اور ان میں سے انتخاب تھراپسٹ کی صوابدید اور بیمار کی ضروریات پر منحصر ہوتا ہے۔اگرچہ اکثر محض تھراپی ہی بیمار کے لئے بڑی مفید ہوتی ہے، لیکن مزید سنگین صورتحال میں اس کا استعمال دواؤں کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے علاج

بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے علاج (ECT) کا مطلب عام آدمی غلط سمجھتے ہیں، اس کی کچھ وجہ فلمی صنعت کادیا ہوا خوفناک تصور ہے۔ ماضی میں ای سی ٹی ظالمانہ لگتی ہوگی جب بجلی کے جھٹکے دئیے جانے پر مریض ہاتھ پاؤں مارتا نظر آتا ہوگا۔ تاہم جدید ای سی ٹی بہت محفوظ ہے اور اس میں بے ہوش کرنے والی اور اعصاب کو ڈھیلا کرنے والی دوائیں دے کے خطرات اور تکلیف کو کم کردیا جاتا ہے۔

ای سی ٹی بیمار کے شدید ڈپریسڈ، خودکشی پر آمادہ یا مینیا کا شکار ہونے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے جب دوائیں اور دوسرے طریقے ناکام ہوچکے ہوں۔اس میں سر پر الیکٹروڈ لگاکے دماغ کو ان کے ذریعے بجلی کے چھوٹے چھوٹے شاک دئیے جاتے ہیں تاکہ اس جھٹکے سے دماغی کیمیا میں فوری تبدیلی پیدا ہو جو ذہنی بیماری کی علامات کو عارضی طور پرکم کردے۔
ای سی ٹی علاج عام طور پرذہنی ماہر صحت کے متعین کردہ سلسلے کی تعداد کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس کے ذیلی اثرات میں یادداشت کا کھو جانا شامل ہے۔تاہم اگر یہ علاج صحیح طور سے نہ کیا جائے تویہ ذیلی اثرات زیادہ شدید ہوسکتے ہیں۔اسی لئے اس علاج کے لئے ذہنی صحت کے پیشہ ورتربیت یافتہ اور قابل ماہرہی کے پاس جانا چاہئے۔

بحالی مراکز

بحالی مراکزکے تحت بیماروں کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے خصوصی مراکز میں داخل کیا جاتا ہے جہاں وہ چند مخصوص خدمات فراہم کی جاتی ہیں جو کمیونٹی مراکز میں دستیاب نہیں ہوتیں۔بحالی مراکز کو پاگل خانے سے کوئی مناسبت نہیں دی جانی چاہئے۔پاگل خانے جیلوں سے مشابہ ہیں اور ان کا مقصد بیماروں کو معاشرے سے الگ کرنا ہے ان کا علاج کرنا نہیں۔اس قسم کے ادارے استعمال کرنا بے حد نقصان دہ ہوسکتا ہے اورنتیجے میں بیمار بہت خراب ماحول میں اوربدسلو کی کے مستقل خطرے سے دوچار زندگی گزاتے ہیں۔
بحالی مراکز اس کے بر عکس بیماروں کی مدد کرنے کے لئے اس انداز میں بنائے گئے ہیں کہ ان کا ماحول صحت یابی میں معاون ثابت ہو۔ وہ ان بیماروں کے لٗے بہت مفید ہوتے ہیں جن کو گھر میں سہارا نہ مل سکے یا جن کی صحت یابی کے لئے ماحول کی تبدیلی ضروری ہو جیسے کسی نشے کے عادی افراد۔

:بحالی مراکز مختلف سہولیات فراہم کرتے ہیں
پیشہ ورانہ ذہنی صحت دیکھ بھال( سائیکیا ٹرسٹس، تھراپسٹس، نرسنگ عملہ)
باقاعدہ معمول بنانے میں مدد( سونے/جاگنے کا معمول) اور صحت مند غذا
مقاصد کا تعین اور متاثرین کی ان کے حصول میں مدد، جس کے لئے مشاہدے پر مبنی مختلف وسائل کا استعمال کیا جائے
دواؤں کے باقاعدگی سے استعمال کی ضمانت
نقصان دہ عادات جیسے منشیات، تمباکو نوشی وغیرہ کے خاتمے میں مدد
گروپ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ، جن سے ساتھیوں کے ساتھ تعلقات بن سکیں
دیگر مفید سرگرمیاں جیسے کھانا پکانا، باغبانی ، آرٹ ، موسیقی وغیرہ۔

بحالی کی خدمات سائیکیاٹرک بحالی کے پیشہ ور ماہرین اور ذہنی صحت پیشہ ور ماہروں کی الگ درجہ بندی کی بدولت مسلسل بہتر ہورہی ہیں۔

متبادل تھراپیز

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روایتی پیشہ ورانہ ذہنی صحت خدمات سے ہٹ کر ، کچھ متبادل طریقہ علاج بھی متاثرین کے لئے بہت مفید ثابت ہوئے ہیں ۔
:چند متبادل تھراپیز یہ ہیں

i14

  1. آرٹ تھراپی جس میں تخلیقی عمل کے ذریعے بیمار کی مدد کی جاتی ہے کہ وہ اپنے جذباتی صدموں کی کھوج کرے ، ان کو سمجھ کر ان سے نمٹنے ، خود شناسی پیدا کرنے، اینگزائٹی کم کرنے اور خود اعتمادی میں اضافے کی کوشش کرے۔ آرٹ تھراپی شدید صدمے میں خاص طور پرمفید ہے کیونکہ یہ بیمار کو ایک ’ بصری زبان ‘ فراہم کرتی ہے کہ اگر وہ اپنے احساسات الفاظ میں بیان نہ کرسکیں تو ان سے مدد لیں۔
  2. رقص/حرکت تھراپی جس میں حرکات کو استعمال کرکے تخلیقی صلاحیت تک پہنچا جاتا ہے اورپورے جسم کے تناؤ میں کمی ہوتی ہے۔ جسم، ذہن اور روح کے درمیان اتصال سے یہ تھراپی اعضا کی اظہاری حرکات کے ذریعے خوداپنی دریافت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
  3. تنویمی تھراپی جس میں بیمار کو گہرے سکون کی ایک متعینہ حالت میں لے جایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد شعور کو خاموش کرنا ہوتا ہے تاکہ تحت الشعور بیدار ہوجائے۔ تھراپسٹ ، متاثرہ شخص سے کچھ ایسی باتیں کہتا ہے ( جیسے ’ ا ونچائی سے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ‘ )یا طرز زندگی میں تبدیلی ( ’ ورزش شروع کیجئے‘ )جو اس شخص کے شعور میں جگہ بنالیتی ہیں
  4. موسیقی تھراپی جس کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ صحت کیلئے موسیقی کے کئی فائدے ہیں جن میں تناؤ میں کمی اور تکلیف کے احساس کی حد کا بڑھایا جانا شامل ہے۔ موسیقی تھراپی سیشن میں مستند تھراپسٹ موسیقی کا استعمال کرتے ہیں( موسیقی سننا، موسیقی بجانا، گیت لکھنا) تاکہ متاثرہ شخص اپنی تخلیقی صلاحیت اور جذبات تک پہنچ سکے۔ اس طرح متاثرہ شخص کے انفرادی مسائل جیسے کہ تناؤ میں کمی، تکلیف میں کمی، جذبات کا اظہار، یادداشت اور رابطے کی بہتری کوہدف بنایا جاسکتا ہے۔
  5. یوگا کو تناؤ میں کمی میں مدد کا بہت بڑا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔یہ ایک روحانی مشق ہے جو ذہنی سکون اور خودشناسی میں مدد دیتی ہے۔یہ متاثرین کے لئے نقصان دہ رویوں سے نجات پانے میں خاص طور پر مدد گار ہے۔یہ ورزش زبردست جسمانی اور ذہنی آزادی کی طرف لے جاسکتی ہے اور اس کے ساتھ جسم اور خیالات پر قابو پانے میں معاون ہوتی ہے۔
  6. غور وفکر میں مختلف ٹیکنیکس اوراقسام استعمال ہوتی ہیں جن کی بنیادمختلف فلسفوں پر ہوتی ہے۔ تاہم سب کا مقصد آپ کے ذہن کو خاموش کرنا اور آپ کو سکون کی اور ساکت حالت میں لانا ہے۔
  7. متبادل تھراپیز کی دوسری قسمیں جو مفید ثابت ہوسکتی ہیں ، ایکوا پنکچر، اروما تھراپی، روشنی سے تھراپی، ہنسنے کی تھراپی ، غذائی تھراپی، مہماتی تھراپی (wilderness therapy)، جڑی بوٹیوں کی تھراپی وغیرہ۔

 ساتھیوں کے تعاون کی تھراپی

ساتھیوں کے تعاون کی تھراپی وہ خصوصی لوگ فراہم کرتے ہیں جو خود ذہنی بیماری کا تجربہ کرچکے ہیں اور اب بہتر ہیں۔ساتھی اسپیشلسٹس ان متاثرین کی ذہنی صحت کے مسائل میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ ان کے اپنے تجربے کی وجہ سے یہ لوگ ایسی مہارت رکھتے ہیں جو پیشہ ورانہ تربیت نہیں فراہم کر سکتی۔اس لفظ ’ ساتھی‘ کا لفظی مطلب ہے’ دوست ‘ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ساتھی اسپیشلسٹ اور ایک بیمار کے درمیان تعلق زیادہ غیر رسمی اور دوستانہ ہے بہ نسبت ایک بیمار اور ذہنی صحت کے پیشہ ور ماہرین کے درمیان تعلق کے۔

:ساتھی اسپیشلسٹس کئی سرگرمیوں میں شامل ہوسکتے ہیں جن میں

  1. اپنے ساتھیوں کو شفایابی کے ہدف کے بارے میں بات کرنے میں مدد کرنا
  2. نئی مہارتوں کو سیکھنے اور ان کی مشق کرنے میں مدد
  3. اپنی پیش رفت پر نگاہ رکھنے میں مدد
  4. ان کے علاج میں تعاون
  5. نمٹنے کی موثر ٹیکنیکس اور اپنی مدد آپ کی حکمت عملی کی ماڈلنگ جو انہوں نے اپنی بحالی کے تجربے سے سیکھی ہیں
  6. موثر خدمات کے حصول کی وکالت میں ان کی معاونت
    ساتھی اسپیشلسٹس بیماروں کے لئے رول ماڈل بھی بن سکتے ہیں اور مشاہدہ یہ کیا گیا ہے کہ اس سے انہیں بحالی میں بڑی مدد ملتی ہے ۔ یہ پیشہ ورانہ ذہنی صحت خدمات کی ایک نئی قسم ہے جو مغربی ممالک میں موجود ہے۔’’ تسکین ‘‘ خود بھی ساتھی تھراپی کی ایک ذہنی صحت پیش قدمی ہے اور ہمارا مقصد پاکستان میں ان خدمات کو متعارف کرانا ہے جس میں مستقبل میں رسمی تربیت اور سند دی جائے گی۔