ابصار کی کہانی

ابصار: حالات نہیں خود کو تبدیل کیجئیے

ہر ایک کی زندگی کی کہانی اس کی اپنی ہوتی ہے۔میرے سارے تجربات کئی اعتبار سے بہت ذاتی ہیں، وہ اس حد تک شخصی ہیں کہ کئی واقعات، مقام یا حادثات نے مجھ پر جو اثر ڈالا وہ آپ پر یا کسیاور پر اس جیسا نہیں ہوسکتا تھا۔

میری اس کہانی کو آپ کو سنانے کی وجہ بھی خودغرضانہ سی ہے: سچ یہ ہے کہ مجھے یہ اچھا لگتا ہے۔ جب میں لوگوں کو اپنی کہانی سناتا ہوں تو مجھے اس سے مزید یقین دہانی ہوتی ہے کہ میں نے جو کیا صحیح کیا ہے۔ اس سے مجھے قوت، توانائی اور اعتماد حاصل ہوتا ہے۔
لیکن شروع کہاں سے کروں؟ پہلی بات تو یہ کہ میں پیدا ہوا۔ میرا بچپن بہترین تھا۔ اگر اس وقت میں پیچھے پلٹ کر دیکھوں،جبکہ میری عمر 31سال ہوگئی ہے، تو بہترین دن میری پیدائش سے لے کرگیارا سال کی عمر تک تھے۔ آپ اس دوران خالص ترین ہوتے ہیں،آپ کی عمر کم ہوتی ہے تو آپ کتنے آزاد ہوتے ہیں۔ آپ وہی ہوتے ہیں جو حقیقت میں ہیں اور وہی کرتے ہیں جو آپ کی اندرونی ذات کہتی ہے۔

بارا سال کی عمر سے بیس سال کی عمر کا میرا دور اس کے بالکل برعکس تھا۔میں پھسلنے لگا، پٹری سے اتر گیا اور بے شمار منشیات لینے لگا، لڑکیوں کے چکر میں پڑ گیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سب اچھا نہیں تھا۔ وہ اچھا تھا۔ لیکن اس نے میری شخصیت کو بدل دیا۔ اس سے میں وہ نہیں رہا جو اصل میں تھا۔14سال کی عمر میں میں نے سگریٹ نوشی شروع کردی، منشیات لینے لگا، چرس پھونکنے لگا۔ بے خودی کی کیفیت میں جانے کا واحد مقصد یہ تھا کہ میں ذہن کی اس بلند سطح پر پہنچنا چاہتا تھا، عام حالت میں کشش نہیں رہی تھی۔ اگر میں اس غیر فطری حالت میں رہ سکتا جو کہ بہت بہتر تھی تو نارمل ذہنی حالت میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔

جب میں انگلینڈ کی یونیورسٹی پہنچا تو صورتحال میرے ہاتھ سے نکل گئی۔کوکین، ہیروئن، ایل ایس ڈی، مشروم،ایسڈ، ایمفی ٹامین،کیٹا مین، اسپیڈ، پلز، ہم پلز ایسے پھانکتے جیسے سوئٹس کھارہے ہوں۔ کئی ماہ تک میں اسی طرح بغیر اسٹاپ لگائے پرواز کرتا رہا۔میرا یہ دور مقابلتاً مختصر تھالیکن اس میں شدت بہت تھی۔اگرچہ منشیات نے میرے ذہن کو اس تخئیلاتی کیفیت میں رکھا، انہوں نے مجھے اس یقین میں گرفتار کردیا کہ یہی سب کچھ ہے۔میرا خیال یہ ہے کہ آپ کی ایک استعداد ہوتی ہے، اور منشیات سے آپ اپنی اس استعداد کے چند پہلوؤں کے مطابق ایک خاص حد تک ہی اوپرپرواز کرسکتے ہیں۔لیکن ذہن، شعور اور جسم کے کچھ اور بھی پہلو ہوتے ہیں جو آپ درحقیقت دبا رہے ہوتے ہیں۔
ایک روز میں سوکر اٹھا تو میرے اندر الارم کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ یہ تم نہیں ہو، میں نے اپنے آپ سے کہا۔ اور پھر یہ تسلیم کرنے کا کہ میں کون ہوں، کم بخت سفر شروع ہوگیا۔ میں نے منشیات بند کردیں، میں بحالی کے لئے تو نہیں گیا، کوئی دوابھی نہیں لی، لیکن میں اپنی عمر کی دوسری دہائی کے شروع میں ایک ہستی سے ملا جو میرے واقعی قریبی دوست ہیں۔ وہ جیسے ایک فرشتہ ہوں، بڑے بھائی کی طرح، باپ کی مانند، دادا نانا جیسی شخصیت۔ انہوں نے مجھے زندگی کے بارے میں بتانا شروع کیا، نفسیات، انسانی ذہن اور روح کے بارے میں، ہر چیز کے بارے میں۔وہ بہت دانائی اور معلومات رکھتے تھے۔ انہوں نے میری پوری ہستی کی چیر پھاڑ کرکے رکھ دی۔ میں کسی پیشہ ورانہ علاج یا کسی ماہرنفسیات کے پاس نہیں گیا، لیکن ان کی دانائی کی وجہ سے مجھے ایک نگراں مل گیا۔ ان کی مدد سے میں نے آٹھ سال خود کو دوبارا دریافت کرنے کی کوشش میں لگا دئیے اور یہ دریافت کرنے میں کہ مجھے کس بات سے تحریک ملتی ہے اور مجھے کس چیزسے حقیقتا بہت لگاؤ ہے۔ اس کے بعد سے اب تک، جب میں 31 سال کا ہوچکا ہوں، یہ در اصل بنیاد بن رہی ہے، بنیاد کی تعمیر اور اسے مضبوط بنانا۔ میں گزشتہ تین سال سے ذہنی طور پر مصروف ہوں۔ میں ہر روز ذہنی کسرت کرتا ہوں۔ اپنے جسمانی عضلات کی کسرت ہو تو آپ اچانک بس ایک دن جم جاکے خود کو بروس لی یا کوئی اور اپنا پسندیدہ ہیرو نہیں سمجھنے لگتے۔

میرا واقعی یہ ماننا ہے کہ اگر آپ کچھ سوچیں تو وہ حقیقت بن سکتی ہے۔ اگر آپ ایک منفی شخصیت رکھتے ہیں، ہمیشہ پریشان رہنے والے ہیں تو آپ کو پریشانیاں ہی ملیں گی اور وہ جسمانی شکل میں ظاہرہوں گی۔ میں ہر چیز میں کوئی نہ کوئی منفی پہلو تلاش کر لیا کرتا تھا۔ میرے نگراں کہا کرتے،”یہ اس لئے ہے کہ تم اپنے خیالات میں تبدیلی نہیں لا رہے ہو۔“ اور میں سوچا کرتا، میرے عمل سے میرے خیالات کا بھلا کیا تعلق؟ میں یہ تعلق جوڑ نہیں پایا۔ لیکن آخرکار وقت اور ان کی تربیت کے ساتھ میری خوش قسمتی ہے کہ ایسا ہو ہی گیا۔ جب میں پاکستان واپس آیا تو میں نے وہ تمام ذہنی مسائل،جو مجھے درپیش تھے اور وہ تمام چیزیں جو مجھے تنگ کرتی تھیں اور جو مجھے زندگی کے ابتدائی گیارا سالوں سے دور لئے جارہی تھیں، ان کو دیکھا:یہ میرنشانا تھا۔

اپنے بچپن میں مجھے باغبانی، جانور، درخت، باہر کی سرگرمیاں، سمندر اور فطرت سب سے بڑی محبت تھی۔ میں بڑا جذباتی تھا، فطرت، ماحول، مدد کی کوشش یہ میرا نشانا ہے کہ میں اس وقت کی اپنی ان اندرونی خصلتوں کی طرف لوٹ جاؤں۔ان انفرادی خصوصیات کو تلاش کروں، انہیں پروان چڑھاؤں اور ان کی بنیاد پر آگے بڑھوں اور میں پھر ایک مکمل شخصیت بن جاؤں۔اس وقت مجھے کبھی منفی خیالات نہیں آتے تھے۔ میں ہر بات کے بارے میں ہمیشہ بڑا مثبت رہتا تھا۔

جب میں یہاں منتقل ہوا تو میں نے جانا کہ اس اثباتیت سے بہت دور ہوں۔ اب میں اپنے ایک ایک مسئلے کو لیتا ہوں اور اپنے بچپن کی شخصیت سے کچھ منتخب کرنے کوشش کرتا ہوں کہ جو چیز مجھے اب پریشان کرتی ہے اسے حل کروں۔جو حیران کن بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ: یہ طریقہ کام کرتا ہے۔ میں اپنی بچپن کی شخصیت کو کام میں لارہا ہوں۔یہ ایک وڈیو گیم کی طرح ہے جہاں آپ کے پاس اسے چلانے کے لئے ایک ٹول بکس ہوتا ہے۔ میرا بچپن میرے لئے ٹول کٹ ہے۔ میں اس کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔

اگر میرے پاس آپ سے بانٹنے کے لئے کچھ ہے تو وہ یہ ہے: خوفزدہ نہ ہوں۔بلکہ اپنے خوف کا سامنا کریں۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ذہنی صحت کے مسئلے، ہمارے اپنے مسئلے، جس لمحے ہم ان کا سامنا کرنے اور شکست دینے کے لئے تیار ہوجائیں ہم مضبوط ہوجاتے ہیں۔یہ تمام اثباتیت جو کسی ذہنی بیماری کے اندر بند ہوتی ہے نکل آتی ہے اور تمام منفی سوچ رخصت ہوجاتی ہے۔
کئی افراد کو یہ رکاوٹ درپیش ہوتی ہے کہ وہ مسئلے کا سامنا نہیں کرتے۔ وہ اسے قالین کے نیچے دبادیتے ہیں، وہ اسے بدنامی کے خوف سے چھپاتے ہیں۔اپنے خوف کا سامنا اپنے خیالوں میں ہی کیجیے، اپنی بدروحوں سے ڈرئیے نہیں ان کا مقابلہ کیجئیے۔آپ کے جو بھی مسئلے ہیں، کسی سے ان کے بارے میں بات کیجئیے۔ ان پر بات کرنے سے ان پر توجہ میں مدد ملتی ہے۔

اپنے مسائل اور اپنی زندگی کی ذمہ داری سنبھالئے۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے یا اس لڑکے یا اس خاتون یا کسی واقع یا پھر حالات کو الزام نہ دیجئیے۔ہمیں کوئی نہ کوئی چیز الزام دینے کے لئے مل جاتی ہے۔ہر چیز کی ذمہ داری لیجئیے، اگر میں اداس ہوں، تو وہ میں ہوں، یہ میری ذمہ داری ہے۔ آج میں جوکچھ ہوں اگر میں اس کی پوری ذمہ داری قبول کرلوں تو میں واقعی اسے تبدیل کرسکتا ہوں۔میں سوچ سکتا ہوں لہذا میں موجود ہوں۔ حالات کی تبدیلی کا انتظار نہ کیجئیے، خود میں تبدیلی لے آئیے۔