سرمد کی کہانی

سرمد:ڈپریشن کا علاج آپ کے ہاتھ میں

ہم پاکستان میں ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جب لوگوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔لوگوں کو اکثریہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کس صورتحال سے گزررہے ہیں اور اکثر وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ان کی دماغی صحت ایک مسئلہ بن گئی ہے اور اس کے لئے انہیں مدد اور علاج کی ضرورت ہے۔ یہی مسئلہ مجھے پیش آیا۔

میرے ذہن میں کئی منفی خیالات گھومتے رہتے تھے۔ شروع میں لوگ مجھ سے کہتے کہ یہ محض بچپنا اور موڈ کی اونچ نیچ ہے، یا ایک قسم کا ڈپریشن جو لوگوں میں عام ہوتا ہے۔ لیکن جوں جوں میں بڑا ہوتا گیاوہ خیالات اپنی جگہ رہے۔ دوسروں کی نظر میں تو میں بڑا خوش تھا اور کھاتا پیتا بھی صحیح تھا۔میرے والدین نے ہر ممکن کوشش کی کہ مجھے ایک اچھی زندگی دے سکیں۔ لیکن مجھے ایسا ہی لگتا تھا جیسے میں جکڑا ہوا ہوں اور کوئی آئے اور اس پنجرے کا دروازہ کھولے میں جس میں بندہوں۔

ایک وقت آیا کہ مجھے ڈپریشن ہوگیا۔ میں روتا رہتا، روتا رہتا، روتا رہتا۔کسی نے آکے مجھ سے نہیں پوچھا کہ کیا واقعی مجھے کوئی پریشانی ہے۔ہر شخص یہی کہتا کہ یہ بچپنے کا اثر ہے جس سے ہر کوئی گزرتا ہے۔لیکن میرے لئے یہ سب ذاتی اور منفرد تھا۔ میرا کچھ بھی کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا، کبھی کبھی تو میں کسی سے بھی بات نہیں کرتا تھا، کھانا گول کردیتا اور گھنٹوں روتا رہتا۔پھر پاکستان میں مردوں کا رونا اچھا نہیں سمجھا جاتااور یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس لئے لوگ آپ سے رونے کی وجہ بھی نہیں پوچھتے، وہ آپ پر نام دھرنا شروع کردیتے ہیں۔میری تعلیم پرکچھ اثر پڑالیکن مجھے ایسا لگا جیسے میں مضامین میں کمزور نہیں ہوابلکہ زندگی میں ہار رہا ہوں۔

مجھے یاد ہے ایک دن میں ایک گروپ میں بیٹھا تھااور جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے کیا پریشانی ہے تو میں نے کہا کہ مجھے ڈپریشن ہے، میری زبان پر یہ لفظ یونہی آگیا تھا۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ ابھی تو میں نے دنیا میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور ابھی میری عمر بھی کچھ نہیں تو میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے ڈپریشن ہے۔پاکستان میں تو کسی کو یہ آئیڈیا بھی نہیں کہ اس قسم کے مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔تو ایک دن جب مجھے ایسا لگا کہ کوئی بھی میری مدد نہیں کرے گا، مجھ میں کوئی خرابی ہے اور اس کا خاتمہ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ میں خود کو ختم کرلوں۔ میں نے دوبار کوشش کی اور خوش قسمتی سے کامیاب نہیں ہوسکااور میں اب آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔پہلی بار میں رات کو دیر گئے اپنے اپارٹمنٹ کی چھت پر گیا کہ دیکھوں چھلانگ لگا کے کتنا نیچے گرونگا۔جب میں چھلانگ لگانے ہی والا تھا مجھے ایسا لگا جیسے میری ماں کا چہرہ مجھے نیچے سے نظرآ رہا ہے۔ مجھے اپنی ماں سے بہت لگاؤ ہے اور اچانک مجھے لگا کہ مجھے ان کی فکر کرناچاہئیے۔ میں اپنے کمرے میں گیا اور سوگیا۔دوسری باراس وقت جب ہمارے گھر میں جھگڑا ہورہا تھا تومیں نے دراز میں سے کچھ زہر نکالا لیکن پھر مجھے قے آگئی اور وہ نکل گیا۔میرے ذہن میں کچھ مثبت پن باقی تھا جس نے مجھے بچالیا۔

جب میں نے آغاخان یونیورسٹی میں نرسنگ کی تربیت کے لئے داخلہ لیاتو میں نفسیات کو ایک مضمون کے طور پر پڑھ رہا تھااور اچانک انکشاف ہوا کہ دماغی صحت کے بارے میں جوکچھ میں جانتا تھا وہ اس سے کتنا مختلف تھا جو میں اب پڑھ رہا تھا۔جب میں دماغی صحت کے بارے میں پڑھنے لگا تو میں نے اندازہ لگا یا کہ میرے مسائل کا حل ممکن ہے۔کسی نے مجھے بتایا کہ طلبہ کے لئے کونسلر موجود ہیں اور میں ان سے بات کرسکتا ہوں۔ پہلے تو میں سمجھا کہ یہ کونسلر جھٹ فیصلہ سنادیتے ہونگے۔ تاہم ایک دن میں نے جا کر ملنے کا فیصلہ کیا اور ہر بات ان کو بتادی جو میں محسوس کیا کرتا تھا۔

اب تین افراد ہیں جو میرے لئے کونسلر ہیں یا میرے معالج ہیں۔پہلا تو میری مذہبی عبادات تھیں۔ میں نے خدا سے خوب بات کرنا شروع کردی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے زندگی میں کسی چیز کے لئے تربیت دے رہا ہے، میں اس کا شکرگزار تھا اور اس کا اظہار کرتا رہتاتھا۔ دوسرا میری ماں جنہوں نے زندگی کی اخلاقیات کے بارے میں مجھے بتایا جس سے مجھے مشکلات سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔ تیسرا میری پروفیشنل کونسلر ہیں۔ ان کے ساتھ ڈھائی سال، ہفتے میں ایک بار ملاقات سے میری سوچ میں تبدیلی پیدا ہوئی۔ جب مشکلات سے میں گزر رہاتھا تو وہ مجھے یونیورسٹی سے گزاردینے میں مددگار ثابت ہوئیں۔

آ ج میں ان تمام حکمت عملیوں پر عمل کرسکتا ہوں جو میری کونسلر نے مجھے سکھائی تھیں۔ مثال کے طور پراگر مجھے ایسا لگے کہ کوئی مجھ سے بات نہیں کررہا تو میں ایک منٹ کے لئے آنکھیں بند کرلیتا ہوں اور انتظار کرتا ہوں۔ تب کسی نہ کسی کا فون یا ٹیکسٹ آجاتا ہے اور مجھے اطمینان ہوجاتا ہے کہ میں تنہا نہیں ہوں۔انہوں نے مجھے جو بھی حکمت عملی سکھائی تھی وہ میری انگلیوں پر ہے۔ میں نے ان سب کو ذہن نشین کرلیا ہے۔

میں زندگی میں خود کو بدقسمت سمجھا کرتا تھا اور روزاپنے آپ کو کوستا تھا۔آج لوگ مجھ سے متاثر ہوتے ہیں، ان میں میرے طلبہ، ساتھی اور دوست سب ہی شامل ہیں، محض اس لئے کہ میں نے اپنے احساسات پر داغ نہیں لگنے دیا اور میں نے کسی سے مدد مانگ لی۔ حالات اب بہت بہتر ہیں۔

اب میں دوسروں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب آپ خود کو قید محسوس کریں اور آپ کو معلوم نہ ہو کہ کیا کرنا ہے تو آپ کوئی منفی انداز اختیار کرلیتے ہیں۔ ایسے میں اپنے خیالات میں تبدیلی لائیے، چیزوں کو مختلف نظر سے دیکھنا شروع کیجئے۔ اگر آ پ کو لگتا ہے کہ آپ کسی سے یہ باتیں کر سکتے ہیں تو کیجئے۔ جو کچھ گزررہی ہے اس پر شرمندہ مت ہوئیے نہ ہی اسے چھپائیے۔اپنے خیالات کو کوئی غلط عنوان مت دیجیئے اور کسی ایسے شخص کو تلاش کرڈالئے جو فیصلہ صادر کرنے کی بجائے آپ کی باتیں سن سکے۔